ڈپٹی کمشنر آفس حب میں ڈپٹی کمشنر جمعداد خان مندوخیل کی زیرِ صدارت اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈسٹرکٹ حب میں جاری شدید آبی قلت حب ڈیم سے پانی کی فراہمی پانی کے موجودہ شیئر، صنعتی و زرعی شعبے کو درپیش مشکلات اور پانی کی چوری و ضیاع سمیت مختلف اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا
ڈپٹی کمشنر آفس حب میں ڈپٹی کمشنر جمعداد خان مندوخیل کی زیرِ صدارت اجلاس

مزید خبریں
حب۔ 19 اگست (اے پی پی):ڈپٹی کمشنر آفس حب میں ڈپٹی کمشنر جمعداد خان مندوخیل کی زیرِ صدارت اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈسٹرکٹ حب میں جاری شدید آبی قلت حب ڈیم سے پانی کی فراہمی پانی کے موجودہ شیئر، صنعتی و زرعی شعبے کو درپیش مشکلات اور پانی کی چوری و ضیاع سمیت مختلف اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں کرنل شہزاد قمر، ونگ کمانڈر 147 ونگ ایف سی حب، پراجیکٹ ڈائریکٹر حب ڈیم، ایس ڈی او واپڈا، ایکسین محکمہ آبپاشی حب، ایکسین محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ حب، ڈی ایس پی حب، اسسٹنٹ کمشنر حب، ایکسین لیڈا، چیئرمین میونسپل کمیٹی حب گل حسن، صدر حب چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز اسماعیل ستار، صدر انجمنِ زمینداران حب رفیق سیپہاد، وائس چیئرمین حب عظیم سنیان، جنرل سیکرٹری لاسبیلہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت شاہد رونجھا سمیت متعلقہ محکموں کے افسران اور نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر حب جمعداد خان مندوخیل نے کہا کہ جب حب ڈیم 1980ء کی دہائی میں قائم کیا گیا تھا تو اس وقت حب کی آبادی تقریباً 20 ہزار نفوس پر مشتمل تھی جبکہ آج حب کی آبادی بڑھ کر تقریباً 6 لاکھ تک پہنچ چکی ہے ۔انہوں نے کہا کہ آبادی میں غیر معمولی اضافے کے ساتھ حب میں تقریباً 300 صنعتی یونٹس قائم ہو چکے ہیں، جبکہ ساکران سمیت ملحقہ علاقوں میں وسیع زرعی اراضی بھی موجود ہے۔
ڈپٹی کمشنر حب نے کہا کہ موجودہ حالات میں شہری آبادی،تین سو صنعت اور زراعت تینوں شعبے پانی کی شدید قلت سے متاثر ہو رہے ہیں پانی کی کمی کے باعث متعدد صنعتی یونٹس بندش کے قریب پہنچ چکے ہیں جبکہ ساکران کے کسان بھی اپنی فصلوں کی مناسب آبپاشی نہ ہونے کے باعث شدید مشکلات سے دوچار ہیں ۔انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ حب ضلع کو اس وقت اس کے متوقع پانی کے حصے کا 30 فیصد سے بھی کم پانی موصول ہو رہا ہے، حالانکہ حب ڈیم کا کیچمنٹ ایریا بلوچستان میں واقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال تشویشناک ہے کیونکہ تقریباً تین ماہ قبل تک حب میں پانی کی ایسی شدید قلت موجود نہیں تھی، تاہم اچانک پانی کے حصے میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے جس کی وجوہات کا جامع جائزہ لینا ضروری ہے۔ اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ حب کے آبی بحران کے حل کے لیے بین الادارہ جاتی تعاون، شفاف نظامِ تقسیم، پانی کے ضیاع اور چوری کی روک تھام اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ایک جامع اور پائیدار حکمتِ عملی وضع کی جائے گی تاکہ شہری آبادی کو پینے کے پانی کی فراہمی، صنعتی سرگرمیوں کا تسلسل اور ساکران سمیت دیگر علاقوں میں زرعی معیشت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔\378








