سی سی پی او پشاور کی زیرِ صدارت ملک سعد شہید پولیس لائن میں کارکردگی کے جائزہ بارے اجلاس

سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد کی زیرِ صدارت ملک سعد شہید پولیس لائن میں پولیس کی کارکردگی کے جائزہ بارے اجلاس منعقد ہوا۔ تر جمان کیپٹل سٹی پولیس پشاورکے مطابق اجلاس میں پولیس کو دی گئی ٹاسکنگ، قبضہ مافیا

پشاور۔ 19 اگست (اے پی پی):سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد کی زیرِ صدارت ملک سعد شہید پولیس لائن میں پولیس کی کارکردگی کے جائزہ بارے اجلاس منعقد ہوا۔ تر جمان کیپٹل سٹی پولیس پشاورکے مطابق اجلاس میں پولیس کو دی گئی ٹاسکنگ، قبضہ مافیا، سٹریٹ کرائمز، ڈکیتی، جرائم پیشہ گینگز، گنڈہ گرد عناصر، سنیچرز، منشیات بالخصوص آئس ڈیلرز، اسلحہ کی نمائش، ہوائی فائرنگ، اشتہاری مجرمان کی گرفتاری، معاشرتی برائیوں میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیوں، عادی جرائم پیشہ افراد کی دوبارہ گرفتاری اور امن و امان کے قیام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان، ایس پی انویسٹی گیشن ڈاکٹر سمیع ملک، ڈی پی او ضلع خیبر وقار احمد، کمانڈنٹ کیمپس مجیب الرحمٰن، ڈویژنل ایس پیز، ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز نے شرکت کی۔اس موقع پر سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید احمد نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ، بروقت انصاف کی فراہمی اور شہریوں کے مسائل کا حل پشاور پولیس کی اولین ذمہ داری ہے۔

سی سی پی او نے افسران پر زور دیا کہ وہ ایمانداری، دیانت داری، فرض شناسی اور عوامی خدمت کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری کا محور بنائیں، بیواؤں، یتیموں، بے سہارا افراد اور مستحق درخواست گزاروں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ ایمانداری اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے والے افسران و اہلکاروں کی بہترین کارکردگی پر ہر سطح پر حوصلہ افزائی کی جائے گی۔سی سی پی او نے ہدایت کی کہ تمام زیرِ التوا ٹاسک اور درخواستیں مقررہ مدت کے اندر نمٹائی جائیں اور ہر معاملے میں میرٹ، شفافیت اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔سی سی پی او نے جرائم پیشہ عناصر، بالخصوص سٹریٹ کرائمز میں ملوث ملزمان، قبضہ مافیا، بھتہ خوروں، منشیات فروشوں، اشتہاری مجرمان، سود خوروں، گنڈہ گرد عناصر، اسلحہ کی نمائش، ہوائی فائرنگ اور دیگر جرائم میں ملوث افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل سے آگاہی حاصل کرنے اور ان کے بروقت حل کے لیے ڈی آر سیز اور پی ایل سیز کے ممبران کے ساتھ ہر ماہ میٹنگز کا انعقاد بھی کیا جائے گا۔