سعودی عرب اے آئی ایکو سسٹم کی تعمیر میں قابل اعتماد عالمی شراکت دار کے طور پر موجود ہے،سعودی وزیرکمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی

برن۔22جنوری (اے پی پی):سعودی وزیرکمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی انجینئرعبداللہ السواحہ نے کہا ہے کہ سعودی عرب انٹیلیجنٹ ایج میں اے آئی ایکو سسٹم کی تعمیر میں قابل اعتماد عالمی شراکت دار کے طور پر موجود ہے۔ اردو نیوز کے مطابق انہوں نے گزشتہ روز سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر سعودی ہائوس میں ’’عالمی خوشحالی کے لئے مصنوعی ذہانت: جدت، شمولیت اور اعتماد‘‘ کے عنوان …

برن۔22جنوری (اے پی پی):سعودی وزیرکمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی انجینئرعبداللہ السواحہ نے کہا ہے کہ سعودی عرب انٹیلیجنٹ ایج میں اے آئی ایکو سسٹم کی تعمیر میں قابل اعتماد عالمی شراکت دار کے طور پر موجود ہے۔ اردو نیوز کے مطابق انہوں نے گزشتہ روز سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر سعودی ہائوس میں ’’عالمی خوشحالی کے لئے مصنوعی ذہانت: جدت، شمولیت اور اعتماد‘‘ کے عنوان سے ڈائیلاگ سیشن میں خطاب کر تے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی پوزیشن کو توانائی، سرمایہ، انفرا سٹرکچر اور انسانی صلاحیتوں جیسے بنیادی عناصر مضبوط بناتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ کے شعبے میں مملکت کو حاصل ہونے والی کامیابیوں کی بنیاد شاہ سلمان بن عبدالعزیزکی ہدایات اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے بھرپورتعاون ہے۔مملکت عالمی طورپر سب سے بڑے توانائی فراہم کنندہ کے طورپر منصوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز تک رسائی کو بڑھانے میں اہم کردار کی حامل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سعودی عرب کی جانب سے ہیلتھ کیئر، توانائی اور جدید کمیسٹری کے شعبوں میں کیے جانے والے اقدامات، انسانیت اور کرہ ارض کو فائدہ پہنچانے کے لئے مصنوعی ذہانت کا استعمال ایک ماڈل ہے جو انٹیلیجنٹ ایج میں عالمی سطح پر خوشحالی کوفروغ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان تین منفرد نوعیت کی حکمت عملی پر غور کررہے ہیں جن کا اعلان جلد کیا جائے گا۔

ان میں سے ایک یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں دنیا بھر کے 5 بہترین مراکز میں مملکت کو شامل کیا جائے۔ سعودی عرب مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی سطح پر ترقی یافتہ ملک بننے کے لئے کوشاں ہے۔مملکت نے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے طبی اور حیاتیاتی شعبوں میں پیش رفت کی ہے جس کے تحت سرجری میں روبوٹس کا کامیاب استعمال شامل ہے۔ علاوہ ازیں ایسے پیچیدہ کام جن کے لیے کئی ہفتے درکار ہوتے تھے، ان کا دورانیہ گھنٹوں تک محدود کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 20 ویں صدی توانائی پر مرکوز تھی۔ 21 ویں صدی کی تعریف کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت سے کی جار ہی ہے۔ سعودی عرب نے دنیا کے سب سے بڑے انرجی پرووائیڈر کے طور پر مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی تک رسائی کو بڑھانے اور عام مقصد کے لئے ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

مزید خبریں