اوٹاوا ۔23جنوری (اے پی پی):کینیڈا میں پائلٹ کا روپ دھار کر سینکڑوں مرتبہ مفت سفر کرنے والے شخص کو گرفتار کرلیا گیا۔ ۔امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے ایک ایسے حیرت انگیز واقعے کا انکشاف کیا ہے جس میں کینیڈا کی ایک ایئرلائن کے سابق فلائٹ اٹینڈنٹ نے خود کو کمرشل پائلٹ اور موجودہ عملے کا رکن ظاہر کر کے مختلف امریکی …
کینیڈا میں پائلٹ کا روپ دھار کر سینکڑوں مرتبہ مفت سفر کرنے والا شخص گرفتار

مزید خبریں
اوٹاوا ۔23جنوری (اے پی پی):کینیڈا میں پائلٹ کا روپ دھار کر سینکڑوں مرتبہ مفت سفر کرنے والے شخص کو گرفتار کرلیا گیا۔ ۔امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے ایک ایسے حیرت انگیز واقعے کا انکشاف کیا ہے جس میں کینیڈا کی ایک ایئرلائن کے سابق فلائٹ اٹینڈنٹ نے خود کو کمرشل پائلٹ اور موجودہ عملے کا رکن ظاہر کر کے مختلف امریکی ایئر لائنز سے سینکڑوں مفت پروازیں حاصل کیںٹورنٹو سے تعلق رکھنے والے 33 سالہ ڈلاس پوکورنک کو گزشتہ برس اکتوبر میں ہوائی کی وفاقی عدالت میں ’وائر فراڈ‘ (آن لائن دھوکہ دہی) کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کیے جانے کے بعد پاناما سے گرفتار کیا گیا تھا۔
ملزم کو حال ہی میں امریکا کے حوالے کیا گیا جہاں منگل کو عدالت میں پیشی کے دوران اس نے الزامات کی صحت سے انکار کیا ہے۔عدالتی دستاویزات کے مطابق ڈلاس پوکورنک سنہ 2017 سے 2019 تک ٹورنٹو کی ایک ایئر لائن میں فلائٹ اٹینڈنٹ کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ملازمت چھوڑنے کے بعد انہوں نے اسی ایئر لائن کے جعلی ایمپلائی آئی ڈی کارڈز استعمال کیے تاکہ دیگر تین ایئر لائنز میں پائلٹوں اور فضائی عملے کے لیے مختص مفت ٹکٹ حاصل کر سکیں۔امریکی استغاثہ کا کہنا ہے کہ ڈلاس پوکورنک اس حد تک نڈر تھے کہ انہوں نے متعدد بار کاک پٹ میں موجود اس اضافی نشست یعنی ’جمپ سیٹ‘ پر بیٹھنے کی بھی درخواست کی جو عام طور پر ڈیوٹی سے فارغ پائلٹوں کے لیے مخصوص ہوتی ہے۔
تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا وہ کبھی واقعی کسی جہاز کے کاک پٹ میں بیٹھ کر سفر کرنے میں کامیاب ہوئے یا نہیں۔ملزم پر عائد کی گئی فردِ جرم میں ان ایئر لائنز کے نام ظاہر نہیں کیے گئے جنہیں دھوکہ دیا گیا البتہ ان کچھ مقامات کا ذکر کیا گیا ہے جو ہونولولو، شکاگو اور فورٹ ورتھ میں واقع ہیں۔ان شہروں سے پروازیں چلانے والی ہوائی ایئر لائنز، یونائیٹڈ ایئر لائنز اور امریکن ایئر لائنز کے ترجمانوں نے فی الحال اس معاملے پر کوئی موقف اختیار نہیں کیا۔اسی طرح ٹورنٹو میں قائم ایئر کینیڈا کی جانب سے بھی ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ہوائی میں امریکی استغاثہ کے مطابق جعل سازی کا یہ سلسلہ چار برس تک جاری رہا۔







