انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کا اطلاق ہر پرتشدد واقعے پر نہیں کیا جا سکتا،سپریم کورٹ آ ف پاکستان

اسلام آباد۔ 24 جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (ATA) کا اطلاق ہر پرتشدد واقعے پر نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ کی جانب سے گزشتہ روز جاری تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے کراچی میں پیش آنے والے مبینہ پولیس مقابلہ کیس میں پولیس اہلکاروں کے خلاف دفعہ 27 اے ٹی اے کے تحت دی گئی سزا …

اسلام آباد۔ 24 جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (ATA) کا اطلاق ہر پرتشدد واقعے پر نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ کی جانب سے گزشتہ روز جاری تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے کراچی میں پیش آنے والے مبینہ پولیس مقابلہ کیس میں پولیس اہلکاروں کے خلاف دفعہ 27 اے ٹی اے کے تحت دی گئی سزا کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا جبکہ ملزم ارشد کی بریت برقرار رکھی گئی۔

جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے پولیس اہلکاروں کی فوجداری اپیل منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ زیرِ بحث واقعہ دہشت گردی کے قانونی معیار پر پورا نہیں اترتا تھا، اس لیے انسدادِ دہشت گردی عدالت کو مقدمہ سننے کا اختیار حاصل نہیں تھا ۔عدالت کے مطابق 22 اگست 2018 کو کراچی میں پیش آنے والا واقعہ بظاہر پولیس گشت کے دوران مشتبہ افراد کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے کی نوعیت رکھتا تھا۔

مقدمے کے ریکارڈ سے کسی سیاسی، مذہبی یا نظریاتی مقصد، یا حکومت و عوام کو خوفزدہ کرنے کی نیت ثابت نہیں ہوتی، جو دہشت گردی قرار دینے کے لیے لازمی عناصر ہیں۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ محض فائرنگ یا خوف و ہراس پیدا ہونا کسی واقعے کو خودبخود دہشت گردی کے زمرے میں نہیں لاتا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ صرف اسی صورت لاگو ہو سکتا ہے جب تشدد کا مقصد ریاست، عوام یا معاشرے کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہو۔

عدالتِ عظمیٰ نے سندھ ہائی کورٹ کے اس اقدام کو بھی قانونی تقاضوں کے منافی قرار دیا جس کے تحت ملزم کو بری کرنے کے بعد اسی ریکارڈ پر پولیس اہلکاروں کے خلاف دفعہ 27 اے ٹی اے کے تحت کارروائی کی گئی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ دفعہ 27 کے تحت سزا ایک فوجداری کارروائی ہے، جس کے لیے آئین کے آرٹیکل 10-A کے تحت منصفانہ ٹرائل اور ضابطہ فوجداری کی مکمل پابندی لازم ہے۔

سپریم کورٹ کے مطابق محض شوکاز نوٹس اور تحریری وضاحتوں کی بنیاد پر پولیس اہلکاروں کو قید کی سزا دینا انصاف کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔ اہلکاروں کو نہ تو باقاعدہ ملزم کے طور پر ٹرائل کا موقع دیا گیا اور نہ ہی دفاع میں شہادت پیش کرنے یا جرح کا حق فراہم کیا گیا۔عدالت نے واضح کیا کہ دفعہ 27 اے ٹی اے کو ہر بریت کے بعد خودکار سزا کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

اگر تفتیش میں سنگین خامیاں یا غیر قانونی اقدامات ہوں تو ان کے لیے عام فوجداری قانون یا محکمانہ کارروائی کا راستہ موجود ہےتاہم انسدادِ دہشت گردی ایکٹ اس کا متبادل نہیں۔سپریم کورٹ نے ملزم ارشد کی بریت کے خلاف ریاست کی جانب سے دائر درخواست بھی مسترد کر دی اور قرار دیا کہ چونکہ مقدمہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے دائرے میں آتا ہی نہیں، اس لیے بریت میں کوئی قانونی سقم موجود نہیں۔

عدالت نے یہ بھی وضاحت کی کہ پولیس اہلکاروں کی بریت کا یہ فیصلہ کسی ممکنہ محکمانہ یا فوجداری کارروائی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گا، بشرطیکہ ایسی کارروائی عام قانون کے تحت اور مکمل قانونی طریقہ کار کے مطابق کی جائے۔