تہران ۔26جنوری (اے پی پی):ایران نے مغربی میڈیا کی اُن رپورٹس کی تردید کی ہے جن میں ملک میں بدامنی کے نتیجے میں 30 ہزار افراد کے مارے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا، اور ان بیانات کو انہوں نے ہٹلر طرز کا جھوٹ قرار دیا ہے۔تاس کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھاکہ ہٹلر طرز کا بڑا جھوٹ، …
ایران کی بدامنی کے دوران 30 ہزار افراد کے مارے جانے سے متعلق مغربی میڈیا کی رپورٹس کی تردید
تہران ۔26جنوری (اے پی پی):ایران نے مغربی میڈیا کی اُن رپورٹس کی تردید کی ہے جن میں ملک میں بدامنی کے نتیجے میں 30 ہزار افراد کے مارے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا، اور ان بیانات کو انہوں نے ہٹلر طرز کا جھوٹ قرار دیا ہے۔تاس کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھاکہ ہٹلر طرز کا بڑا جھوٹ، کیا یہی وہ تعداد نہیں تھی جسے وہ ایران کی سڑکوں پر مارنے کا منصوبہ بنا رہے تھے؟ مگر وہ ناکام رہے، اور اب میڈیا میں اسے جعلی طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ واقعی نہایت گھنائونا عمل ہے۔ایران میں بدامنی کا آغاز 29 دسمبر کو اُس وقت ہوا جب ایرانی ریال کی قدر میں شدید کمی کے بعد سڑکوں پر احتجاج شروع ہوا، جو بعد ازاں ملک کے بیشتر بڑے شہروں تک پھیل گیا۔ حکام کے مطابق ان واقعات میں قانون نافذ کرنے والے40 اہلکار ہلاک ہوئے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق 8 جنوری کو مظاہرین میں مسلح دہشت گرد بھی شامل ہو گئے تھے۔
ایرانی حکام نے بدامنی کو منظم کرنے کا الزام اسرائیل اور امریکاپر عائد کیا ہے۔ 23 جنوری کو عباس عراقچی نے کہا تھا کہ ہنگاموں کے دوران اموات کی تعداد 3,117 تک پہنچ چکی ہے، جن میں عام شہریوں کے ساتھ ساتھ سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ وہ ایران کے خلاف طاقت کے استعمال پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔








