قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس

اسلام آباد۔28جنوری (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس منگل کو رکن قومی اسمبلی احمد عتیق انور کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔کمیٹی کےچیئرمین نے تمام شرکا کا خیرمقدم کیا اور بعد ازاں ایجنڈے کے مطابق کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔کمیٹی کو واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے نمائندے نے آگاہ کیا کہ کے-فور فیز-ون (260 ایم جی ڈی) …

اسلام آباد۔28جنوری (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس منگل کو رکن قومی اسمبلی احمد عتیق انور کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔کمیٹی کےچیئرمین نے تمام شرکا کا خیرمقدم کیا اور بعد ازاں ایجنڈے کے مطابق کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔کمیٹی کو واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے نمائندے نے آگاہ کیا کہ کے-فور فیز-ون (260 ایم جی ڈی) منصوبے پر تعمیراتی کام آخری مراحل میں ہے اور اس کی تکمیل دسمبر 2026ء تک متوقع ہے،

منصوبے کی بروقت تکمیل کا انحصار درکار فنڈز کی دستیابی اور بروقت اجرا پر ہے۔کمیٹی نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (کے ڈبلیو ایس سی) کو ہدایت کی کہ وہ کے-فور منصوبے میں اپنی ذمہ داری کے دائرہ کار کے تحت ہونے والے کاموں کی پیش رفت سے متعلق آئندہ اجلاس میں تفصیلی بریفنگ پیش کرے۔کمیٹی نے سپیس اینڈ اپر ایٹماسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) کو ہدایت کی کہ وہ 1976ء سے اب تک ڈیلٹا کے علاقے کی تمام دستیاب سیٹلائٹ تصاویر فراہم کرے تاکہ سمندری کٹائو کے باعث ہونے والے زمینی نقصان کا اندازہ لگایا جا سکے۔

کمیٹی نے اپنے گزشتہ اجلاس کی سفارش کو دہراتے ہوئے تمام صوبوں کے محکمہ آبپاشی کو ہدایت کی کہ وہ گزشتہ دس برسوں کے دوران اپنے انتظامی کنٹرول میں موجود زمین کا واضح اور جامع ریکارڈ جمع کروائیں جس میں کسانوں کو لیز پر دی گئی زمین، ہائوسنگ سوسائٹیوں کے لیےاستعمال ہونے والی زمین اور غیر قانونی قبضے میں موجود زمین کی تفصیل شامل ہو۔

اس ضمن میں تمام صوبوں کے سیکرٹریز آبپاشی نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ مطلوبہ ریکارڈ اور رپورٹ 15 دن کے اندر کمیٹی کو پیش کر دی جائے گی۔اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی محمد ادریس، ریاض الحق، میاں خان بگٹی (ویڈیو لنک کے ذریعے)، شمائلہ رانا، شازیہ مری، صباء تالپور اور سید وسیم حسین نے شرکت کی جبکہ وزارت آبی وسائل کے حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔

مزید خبریں