لاہور۔7فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان آئین میں ترمیم کرنے کا اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے، وقت کے ساتھ واضح ہوگا کہ 26ویں آئینی ترمیم کا فیصلہ درست ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔ ہفتہ کوعاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کا آغاز اس ضرورت کے تحت کیا گیا کہ ایک …
پاکستان آئین میں ترمیم کرنے کا اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے ، وفاقی وزیر قانون و انصاف

مزید خبریں
لاہور۔7فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان آئین میں ترمیم کرنے کا اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے، وقت کے ساتھ واضح ہوگا کہ 26ویں آئینی ترمیم کا فیصلہ درست ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔ ہفتہ کوعاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کا آغاز اس ضرورت کے تحت کیا گیا کہ ایک آئینی عدالت قائم کی جائے۔ وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ ماضی میں بعض مواقع پر سپریم کورٹ دائرہ اختیار سے باہر گئی جبکہ نظرثانی میں سزائے موت کے بعض فیصلے غلط بھی ثابت ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے مختلف حلقوں سے مشاورت کی گئی اور ساتھیوں کو اعتماد میں لے کر اس معاملے پر سوال وجواب ہوئے۔ انہوں نےکہاکہ اس ترمیم کے تحت آئینی بنچز قائم کرنے کا تصور پیش کیا گیا جبکہ ماضی میں 19ویں آئینی ترمیم پر بھی اعتراضات سامنے آئے تھے۔سینیٹراعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ججز کے تبادلوں کے معاملے میں صدر مملکت، وزیراعظم و چیف جسٹس آف پاکستان سے مشاورت کی جائے گی اور ججز کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پنجاب اور اسلام آباد میں اچھے ججز موجود ہیں تو اندرون سندھ اور خیبرپختونخوا کے لوگوں کا بھی مساوی حق ہے۔انہوں نے کہا کہ آئینی عدالت نے اپنا کام شروع کر دیا ہے ،وقت کے ساتھ اس کے نتائج سامنے آئیں گے، قانون پر عملدرآمد ضروری اور اگر کوئی ریڈ لائن کراس کرے گا تو اس کے نتائج سامنے آئیں گے۔وفاقی وزیرِ قانون نے کہا کہ مسنگ پرسنز کا معاملہ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ یہ پوری دنیا کا ایک سنگین مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ خود لاپتہ افراد سے متعلق قائم جوڈیشل کمیشن کا حصہ اور اس معاملے پر ذاتی طور پر بھی کام کر رہے ہیں۔وفاقی وزیرِ قانون نے کہا کہ حکومت اس حساس مسئلے پر پوری سنجیدگی کے ساتھ اقدامات کررہی ہے اور جوڈیشل کمیشن اپنا کام ذمہ داری سے انجام دے رہا ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ ایک کڑوا سچ ہے کہ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، دنیا کے کسی بھی ملک نے دہشت گردی کے خلاف اتنی طویل جنگ نہیں لڑی جتنی پاکستان نے لڑی ہے۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ حکومت گھریلو تشدد کے خلاف بھی قانون سازی کر رہی ہے جبکہ اسلام آباد کی حد تک اس قانون کو نافذ بھی کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا سے متعلق معاملات پر بھی کام جاری اور متعلقہ قانون سازی و اقدامات زیرِ غور ہیں۔قبل ازیں انہوں نے خطاب کے آغاز میں شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کانفرنس کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ کسی بھی معاشرے میں امن و ترقی کے لیے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔








