ویمنز پارلیمانی کاکس کا تمباکو کنٹرول اور ای سگریٹ کی ریگولیشن کے لیے سخت قانون سازی پر زور

قومی اسمبلی کے ویمنز پارلیمانی کاکس کی ورکنگ کونسل کا 9واں اجلاس پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں سیکرٹری ڈبلیو پی سی ڈاکٹر شاہدہ رحمانی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں عورت فائونڈیشن کے تعاون سے ایک خصوصی بریفنگ دی گئی جس کا بنیادی مقصد تمباکو کنٹرول اور بالخصوص الیکٹرانک نیکوٹین ڈلیوری سسٹمز، ای سگریٹ اور دیگر نئی نیکوٹین مصنوعات کی ریگولیشن پر غور کرنا تھا۔

اسلام آباد۔25اگست (اے پی پی):قومی اسمبلی کے ویمنز پارلیمانی کاکس کی ورکنگ کونسل کا 9واں اجلاس پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں سیکرٹری ڈبلیو پی سی ڈاکٹر شاہدہ رحمانی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں عورت فائونڈیشن کے تعاون سے ایک خصوصی بریفنگ دی گئی جس کا بنیادی مقصد تمباکو کنٹرول اور بالخصوص الیکٹرانک نیکوٹین ڈلیوری سسٹمز، ای سگریٹ اور دیگر نئی نیکوٹین مصنوعات کی ریگولیشن پر غور کرنا تھا۔

اجلاس میں ٹریژرر شاہدہ بیگم سمیت اراکین قومی اسمبلی فرخ خان، نعیمہ کشور خان اور رانا انصار کے علاوہ سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی جبکہ ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر مطیع الرحمن نے تمباکو نوشی کے صحت پر مضر اثرات اور قانون پر عملدرآمد کے چیلنجز پر بریفنگ دی۔اجلاس کے دوران شرکا نے نوجوانوں میں ای سگریٹ اور جدید نیکوٹین مصنوعات کے بڑھتے ہوئے استعمال، اشتہارات اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

اراکین نے واضح کیا کہ نیکوٹین بچوں، خواتین اور بالخصوص حاملہ خواتین کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ کونسل نے مجوزہ قانون سازی کا جائزہ لیتے ہوئے سفارش کی کہ نیکوٹین کی مقدار کو 20 ملی گرام فی ملی لیٹر تک محدود کیا جائے، فلیورڈ مصنوعات اور ان کی تشہیر پر پابندی عائد کی جائے اور خلاف ورزی پر سزائیں بڑھائی جائیں۔ اس کے علاوہ سگریٹ کے پیکٹ پر تصویری انتباہ کا رقبہ 60 سے بڑھا کر 70 تا 80 فیصد کرنے اور تعلیمی اداروں کے ارد گرد 50 میٹر تک سگریٹ نوشی کی ممانعت پر سخت عملدرآمد کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

ورکنگ کونسل نے مجوزہ بل کو مضبوط بنانے کے لیے پارلیمانی کردار کو بڑھانے پر زور دیا اور تجویز دی کہ متعلقہ پارلیمانی کمیٹیاں ڈریپ اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر قانونی فریم ورک کا جائزہ لیں۔ اس ضمن میں پارلیمنٹ میں توجہ دلائو نوٹس لانے اور تمام سٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک وسیع فورم تشکیل دینے کی بھی تائید کی گئی۔ اجلاس کے اختتام پر ویمنز پارلیمانی کاکس نے عوام بالخصوص نوجوان نسل اور خواتین کی صحت کے تحفظ کے لیے ٹھوس قانون سازی، سخت نگرانی اور مستقل آگاہی مہمات جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

مزید خبریں