قومی اسمبلی کے پاکستان-نیپال بھوٹان پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کا ایک اہم اجلاس کنوینر ڈاکٹر مہیش کمار ملانی کی زیر قیادت پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں نیپال کی سفیر ریتا دھیتال نے خصوصی شرکت کی۔ اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور پارلیمانی و عوامی سطح پر روابط بڑھانے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
نیپال پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کا نیپالی سفیر کے ساتھ اجلاس، دوطرفہ تجارت اور براہ راست پروازوں کی بحالی پر زور

مزید خبریں
اسلام آباد۔25اگست (اے پی پی):قومی اسمبلی کے پاکستان-نیپال بھوٹان پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کا ایک اہم اجلاس کنوینر ڈاکٹر مہیش کمار ملانی کی زیر قیادت پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں نیپال کی سفیر ریتا دھیتال نے خصوصی شرکت کی۔ اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور پارلیمانی و عوامی سطح پر روابط بڑھانے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر فرینڈشپ گروپ کے اراکین شہزادہ محمد گشتاسپ خان، فرح ناز اکبر، شائستہ خان، اسفندیار ایم بھنڈارا، دانیال چوہدری اور ڈاکٹر درشن بھی موجود تھے۔
کنوینر ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے نیپالی سفیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور نیپال کے مابین گہرے ثقافتی، تاریخی اور دوستانہ تعلقات قائم ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ دونوں ملکوں کے عوام اور پارلیمانوں کو قریب لانے کے لیے باقاعدہ رابطے ناگزیر ہیں اور تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، سیاحت، ثقافت، آئی ٹی اور نوجوانوں کے باہمی تبادلوں کے شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ نیپال کی سفیر ریتا دھیتال نے پرخلوص استقبال پر شکریہ ادا کیا اور تعلیم، موسمیاتی تبدیلی، سیاحت اور تجارت کے شعبوں میں جاری باہمی تعاون کو سراہتے ہوئے کاروباری برادری کے براہ راست روابط بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس میں دونوں جانب سے پارلیمانی وفود کے دوروں اور ورچوئل رابطوں کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔
اس دوران دونوں ممالک کے مابین براہ راست فضائی رابطہ بحال کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی تاکہ مذہبی اور مہم جوئی کی سیاحت کے ساتھ ساتھ دوطرفہ تجارت کو فروغ مل سکے۔ شرکا نے ہمالیائی خطے کے مشترکہ جغرافیے، کوہ پیمائی کی روایات اور پاکستان و نیپال میں موجود بدھ مت کے مذہبی مقامات کو باہمی تعلقات کی مضبوطی کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔ آخر میں کنوینر نے تعمیری بات چیت پر سفیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ اجلاس دونوں برادر ممالک کے تعلقات کو مزید بلندیوں تک لے جائے گا۔







