پاکستانی آئین تمام شہریوں کو برابر کے حقوق و مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، کھیئل داس

لاہور۔7فروری (اے پی پی):وزیرِ مملکت برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کھیئل داس کوہستانی نے کہا ہے کہ پاکستان کا آئین تمام شہریوں کو برابر کے حقوق و مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے اور کسی بھی قسم کے جبر یا زبردستی کی اجازت نہیں دیتا۔لاہور کے مقامی ہوٹل میں ہفتہ کے روز"جمہوریت اور قانون کی حکمرانی" کے موضوع پر دو روزہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے …

لاہور۔7فروری (اے پی پی):وزیرِ مملکت برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کھیئل داس کوہستانی نے کہا ہے کہ پاکستان کا آئین تمام شہریوں کو برابر کے حقوق و مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے اور کسی بھی قسم کے جبر یا زبردستی کی اجازت نہیں دیتا۔لاہور کے مقامی ہوٹل میں ہفتہ کے روز”جمہوریت اور قانون کی حکمرانی” کے موضوع پر دو روزہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کھیئل داس کوہستانی نے کہا کہ پاکستان میں تمام شہری مساوی حقوق کے حامل ہیں جبکہ اسلام میں بھی غیر مسلموں کے حقوق کے تحفظ پر زور دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مذہبی شدت پسندی کے خوف سے معاشرہ متاثر ہوتا ہے، اس لیے ہم سب کو مل کر مکالمے (ڈائیلاگ) کے ذریعے ہم آہنگی کو فروغ دینا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہندو مذہب بھی کم عمر بچیوں کی شادی کی اجازت نہیں، بارہ سال کی بچی کی شادی ہمارے مذہب میں بھی ممنوع ہے۔ کھیئل داس کوہستانی نے زور دیا کہ قانون پر عملدرآمد ناگزیر اور پاکستان بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ 10 مئی کو بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا، تاہم پاکستان نے جواب دیتے ہوئے انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور واضح پیغام دیا کہ کسی بھی مذہب یا عبادت گاہ، خصوصا مندروں کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی آبادی اس مرحلے پر پہنچ چکی ہے جہاں عملی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کو حفاظتی اقدامات کے ساتھ واپس بھیجا گیا۔بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ نگران حکومت نے 2023 میں افغان مہاجرین کے لیے واضح ٹائم لائن مرتب کی اور قومی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ان اقدامات میں نہ صرف پاکستان بلکہ ہمسایہ ملک کی سکیورٹی کو بھی پیشِ نظر رکھا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کے کئی خطوں میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہوتی ہیں لیکن وہاں کوئی آواز بلند نہیں کرتا ۔بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ حکومت نے 2023 میں افغان مہاجرین پالیسی میں تبدیلی کی، کیونکہ اس معاملے میں سکیورٹی سمیت دیگر اہم پہلوئوں کو دیکھنا ضروری تھا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے آنے والے افغان شہریوں کو ماضی میں بغیر کسی کاغذی کارروائی کے یہاں بسایا گیا۔

 

مزید خبریں