اسلام آباد۔8فروری (اے پی پی):بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کے اعلان کے بعد پاکستان نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر اختیار کیے گئے اپنے اصولی مؤقف میں یہ بات مسلسل واضح کی ہے کہ پانی کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنا بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے، جس کے خطے کے امن، انسانی سلامتی اور ماحولیاتی استحکام پر دور …
پانی کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنا بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے ، پاکستان

مزید خبریں
اسلام آباد۔8فروری (اے پی پی):بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کے اعلان کے بعد پاکستان نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر اختیار کیے گئے اپنے اصولی مؤقف میں یہ بات مسلسل واضح کی ہے کہ پانی کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنا بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے، جس کے خطے کے امن، انسانی سلامتی اور ماحولیاتی استحکام پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔پاکستان کا مؤقف ہے کہ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ ایک قانونی طور پر پابند بین الاقوامی معاہدہ ہے جسے کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا۔ اس معاہدے کا منصفانہ اور بلا تعطل نفاذ نہ صرف پاکستان کے آبی حقوق بلکہ جنوبی ایشیا میں استحکام اور اعتماد سازی کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
پاکستان عالمی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے پانی کو تنازع یا دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتا رہا ہے۔اسی تناظر میں آبی ذخائر کی اہمیت پر بھی زور دیا جا رہا ہے، جنہیں ماحولیاتی توازن، غذائی تحفظ، معاشی سرگرمیوں اور روزمرہ زندگی سے براہ راست منسلک قرار دیا جاتا ہے۔ جھیلیں، گلیشیئرز، مقامی آبی ذخائر، ساحلی علاقے اور مینگرووز نہ صرف قدرتی وسائل ہیں بلکہ لاکھوں افراد کے روزگار اور ملک کے ماحولیاتی تحفظ کی بنیاد بھی ہیں۔ آبی ذخائر میں کمی کے نتیجے میں خشک سالی، سیلاب، غذائی مہنگائی اور معاشی دباؤ جیسے مسائل شدت اختیار کر سکتے ہیں، جس سے قومی سلامتی کے خدشات بھی جنم لیتے ہیں۔
حکومتی سطح پر یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آبی ذخائر کا تحفظ محض موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں ایک ماحولیاتی ذمہ داری نہیں بلکہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر سماجی فلاح و بہبود کی ضمانت بھی ہے۔ اسی سوچ کے تحت پاکستان 1971 کے عالمی آبی ذخائر کے معاہدے کے تقاضوں کے مطابق آبی وسائل کے پائیدار استعمال اور تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے رواں ماہ آبی ذخائر کے عالمی دن کے موقع پر اسی نکتے کو اجاگر کرتے ہوئے آبی ذخائر کو قومی، ماحولیاتی، سماجی اور ثقافتی اثاثہ قرار دیا تھا۔بھارتی اقدامات کے تناظر میں آبی سلامتی کے خدشات کو مزید سنگین قرار دیا جا رہا ہے، خصوصاً اس لیے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث گلیشیئرز کے پگھلاؤ میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ہندوکش اور ہمالیہ ریجن میں برف پگھلنے کی شرح میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ گزشتہ دہائیوں کے دوران گلیشیئرز کی بڑی مقدار ضائع ہو چکی ہے۔ اس صورتحال میں دریاؤں کے بہاؤ میں بڑھتی غیر یقینی کیفیت پاکستان کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال اس امر کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی خطے کے امن اور پاکستان کے آبی حقوق کے لیے سنگین خطرہ ہے اور بھارتی آبی جارحیت کا مقصد پاکستان کو پانی کے بحران سے دوچار کرنا ہے۔ان خدشات کے پیش نظر حکومت نے ٹاسک فورس برائے نیشنل واٹر سکیورٹی قائم کی ہے، جس میں وفاقی وزیر آبی وسائل میاں محمد معین وٹو بھی شامل ہیں۔
وزارتِ آبی وسائل کے خصوصی ورکنگ گروپ کی جانب سے آبی سلامتی سے متعلق سفارشات مرتب کر کے پلاننگ کمیشن کو پیش کی جا چکی ہیں۔ حکومتی حکمت عملی کے مطابق واٹر سکیورٹی کو ملکی بقا، خودمختاری، غذائی تحفظ اور معاشی استحکام سے جوڑا جا رہا ہے، کیونکہ پاکستان کا تقریباً 80 فیصد پانی دریاؤں سے حاصل ہوتا ہے اور بڑھتی آبادی کے باعث آبی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔پارلیمانی سطح پر بھی اس معاملے کو قومی سلامتی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
قومی اسمبلی نے رواں ماہ کشمیر سے متعلق متفقہ قرارداد میں بھارت کے یکطرفہ اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے پر کوئی بھی یکطرفہ فیصلہ علاقائی استحکام کے لیے خطرہ اور پاکستان کے خلاف اعلانِ جنگ تصور ہوگا۔ قرارداد میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مشترکہ وسائل سے متعلق بین الاقوامی معاہدات کی خلاف ورزی پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر سکتی ہے۔بین الاقوامی سطح پر پاکستان نے اس مسئلے کو اقوامِ متحدہ میں بھی بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔ اسی ماہ سلامتی کونسل میں “بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے معاہدات کی حرمت برقرار رکھنا” کے عنوان سے منعقدہ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ معاہدات قانونی طور پر پابند دستاویزات ہوتے ہیں اور مشترکہ قدرتی وسائل، سرحدوں اور سرحد پار چیلنجز کے نظم و نسق میں استحکام کا ذریعہ بنتے ہیں۔
اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے واضح کیا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے اور اس کے تحت تنازعات کے حل کے طریقہ کار لازم اور پابند ہیں۔قانونی ماہرین بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہیں کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت کوئی بھی فریق اسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا اور کسی بھی ترمیم یا تبدیلی کے لیے فریقین کی باہمی رضامندی ضروری ہے۔ پاکستان بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین عابد ساقی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کے مطابق بھارت کے پاس معاہدے کی معطلی کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں۔مبصرین کے مطابق قومی بیانیے، پارلیمانی موقف، پالیسی اقدامات اور اقوامِ متحدہ میں سفارتی سرگرمیوں کا یہ تسلسل اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ، بین الاقوامی قانون کی حکمرانی اور خطے میں امن کے فروغ کے لیے مربوط اور مستقل حکمت عملی کے تحت آگے بڑھ رہا ہے۔








