اسلام آباد۔8فروری (اے پی پی):حکومت نے بے نامی جائیداد یا ٹرانزیکشن کو قابل سزا جرم قرار دیتے ہوئے بے نامی جائیداد کی نشاندہی پر نقد انعامات کا اعلان کیا ہے۔ڈائریکٹوریٹ جنرل انسداد بے نامی اینیشیٹو کے ذرائع کے مطابق 20 لاکھ روپے تک کی بے نامی جائیداد کی نشاندہی پر جائیداد کی مالیت کا 5 فیصد اطلاع دینے والے کو دیا جائے گا۔20 لاکھ روپے سے 50 لاکھ روپے تک …
حکومت کابے نامی جائیداد کی نشاندہی پر نقد انعامات کا اعلان

مزید خبریں
اسلام آباد۔8فروری (اے پی پی):حکومت نے بے نامی جائیداد یا ٹرانزیکشن کو قابل سزا جرم قرار دیتے ہوئے بے نامی جائیداد کی نشاندہی پر نقد انعامات کا اعلان کیا ہے۔ڈائریکٹوریٹ جنرل انسداد بے نامی اینیشیٹو کے ذرائع کے مطابق 20 لاکھ روپے تک کی بے نامی جائیداد کی نشاندہی پر جائیداد کی مالیت کا 5 فیصد اطلاع دینے والے کو دیا جائے گا۔20 لاکھ روپے سے 50 لاکھ روپے تک کی مالیت کی جائیداد پر ایک لاکھ روپے اور 20 لاکھ روپے سے اوپر کی مالیت پر 4 فیصد دیا جائے گا۔
50 لاکھ روپے سے زائد کی مالیت کی جائیداد پر 2 لاکھ 20 ہزار روپے اور 50 لاکھ سے اوپر پر مالیت کا 3 فیصد دیا جائے گا۔واضح رہے کہ بے نامی جائیداد اصل مالک کی بجائے کسی اور کے نام پر رکھی جاتی ہے۔بے نامی جائیداد کا اصل مقصد اصل مالک کو ٹیکس سے بچانا اور ناجائز دولت کو ڈھانپنا ہے۔
اس کے علاوہ بیوی بچوں کے نام پر رکھے جائیداد یا اثاثے بھی بے نام ہوسکتے ہیں۔بے نامی ٹرانزیکشن ایکٹ 2017 کے تحت بے نامی جائیداد یا ٹرانزیکشن ایک قابل سزا جرم ہے،جس پر ایک سے 7 سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔بے نامی جائیداد میں گھر،پلاٹ،بنک اکائونٹ،گاڑی،کیش اور گولڈ شامل ہے جو اصل مالک کی بجائے کسی دوسرے کے نام پر ہو۔








