اسلام آباد۔9فروری (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ہائوسنگ اینڈ ورکس کا اجلاس پیر کو پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس کی صدارت چیئرمین کمیٹی ایم این اے مولانا عبدالغفور حیدری نے کی۔ اجلاس میں اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کنڈومینیم (ملکیت اور انتظام) بل 2026 (سرکاری بل) سمیت سرکاری رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ، اسٹیٹ آفس کے ملازمین کے لیے الاٹمنٹ کے طریقہ کار اور وفاقی ہائوسنگ …
قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس کا اجلاس، کنڈومینیم بل 2026 مزید غور کے لیے موخر

مزید خبریں
اسلام آباد۔9فروری (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ہائوسنگ اینڈ ورکس کا اجلاس پیر کو پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس کی صدارت چیئرمین کمیٹی ایم این اے مولانا عبدالغفور حیدری نے کی۔ اجلاس میں اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کنڈومینیم (ملکیت اور انتظام) بل 2026 (سرکاری بل) سمیت سرکاری رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ، اسٹیٹ آفس کے ملازمین کے لیے الاٹمنٹ کے طریقہ کار اور وفاقی ہائوسنگ منصوبوں کی ترقی سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔
اجلاس کے آغاز میں کمیٹی نے راولپنڈی کے نواحی علاقے میں امام بارگاہ پر ہونے والے خودکش دھماکے سمیت بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر فاتحہ خوانی کی۔قائمہ کمیٹی نے اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کنڈومینیم (ملکیت اور انتظام) بل 2026 پر تفصیلی غور کیا اور فیصلہ کیا کہ بل کو مزید غور و خوض اور ٹاسک فورس کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے لیے آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا جائے۔
اجلاس میں رکن قومی اسمبلی سید رفیع اللہ کی جانب سے جمع کرائے گئے سٹارڈ سوال نمبر 96 کے جواب میں جو سرکاری گھروں کی الاٹمنٹ، آڈٹ کے نظام اور اسٹیٹ آفس کے ملازمین کو الاٹمنٹ کے طریقہ کار سے متعلق تھا، سیکرٹری وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ اسٹیٹ آفس کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے اسٹیٹ آفس میں موجود بدانتظامی کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ شفافیت اور احتساب کے فروغ کے لیے آٹومیشن متعارف کرائی جا رہی ہے، بدعنوانی اور نااہلی کے خاتمے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے اور انتظامی بوجھ کم کیا جا رہا ہے۔
قائمہ کمیٹی نے وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس کی جانب سے مالی سال 2026-27 کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) سے متعلق بجٹ تجاویز پر بھی غور کیا۔ وزارت نے کمیٹی کو بتایا کہ پی ایس ڈی پی 2026-27 میں الیکشن کمیشن آف پاکستان سے متعلق مجموعی طور پر 31 منصوبے شامل ہیں، جن میں 26 جاری اور 5 نئے منصوبے شامل ہیں۔
وزارت نے مزید آگاہ کیا کہ کراچی اور دیگر مقامات پر واقع سرکاری املاک کا درست اور بروقت ریکارڈ مرتب کیا جا رہا ہے تاکہ حکومت کی قیمتی جائیدادوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے. وفاقی وزیر برائے ہائوسنگ اینڈ ورکس نے کمیٹی کو بتایا کہ مقامی ارکانِ قومی اسمبلی کے ساتھ مکمل تعاون کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں تاکہ زیر التواء مسائل حل کیے جا سکیں، جاری منصوبے مکمل کیے جائیں اور موجودہ منصوبوں کی تکمیل تک نئے منصوبے شروع نہ کیے جائیں۔
اجلاس میں ارکان قومی اسمبلی انجم عقیل خان، ابرار احمد، حاجی رسول بخش چانڈیو، ثمینہ خالد گھرکی، انوارالحق چوہدری، عثمان علی اور سید رفیع اللہ (ایجنڈا آئٹم نمبر 6 کے محرک) کے علاوہ وفاقی وزیر برائے ہائوسنگ اینڈ ورکس نے شرکت کی۔ سیکریٹری وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس اور اس سے منسلک محکموں کے افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔








