سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ششماہی زری پالیسی رپورٹ جاری کر دی

اسلام آباد۔9فروری (اے پی پی):بینک دولت پاکستان نے پیر کو اپنی ششماہی زری پالیسی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ اس رپورٹ کے اجراء کا مقصد بیرونی سٹیک ہولڈرز کے ساتھ ابلاغ کو بہتر بنانا اور زری پالیسی کے فیصلہ سازی کے عمل میں مزید شفافیت لانا ہے۔ رپورٹ میں اگست 2025ء کے بعد کی میکرو اکنامک پیش رفت اور معاشی منظرنامے کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے جس نے …

اسلام آباد۔9فروری (اے پی پی):بینک دولت پاکستان نے پیر کو اپنی ششماہی زری پالیسی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ اس رپورٹ کے اجراء کا مقصد بیرونی سٹیک ہولڈرز کے ساتھ ابلاغ کو بہتر بنانا اور زری پالیسی کے فیصلہ سازی کے عمل میں مزید شفافیت لانا ہے۔ رپورٹ میں اگست 2025ء کے بعد کی میکرو اکنامک پیش رفت اور معاشی منظرنامے کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے جس نے زری پالیسی کمیٹی کے فیصلوں کی رہنمائی کی۔

رپورٹ کے مطابق ملک میں میکرو اکنامک حالات اور معاشی منظرنامے میں بہتری آئی ہے جس کی بنیادی وجہ محتاط زری پالیسی اور جاری مالیاتی نظم و ضبط ہے۔ سٹیٹ بینک کو توقع ہے کہ مہنگائی مالی سال 2026ء اور 2027ء کے بیشتر عرصے میں 5 سے 7 فیصد کے ہدف کے درمیان رہے گی، اگرچہ قلیل مدتی اتار چڑھائو کا امکان موجود ہے۔رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026ء میں کرنٹ اکائونٹ خسارہ جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔

تجارتی خسارہ بلند رہنے کا امکان ہے تاہم اسے کارکنوں کی مضبوط ترسیلات زر اور منصوبہ بند سرکاری آمدنی سے جزوی طور پر پورا کیا جا سکے گا۔ اس کے نتیجے میں سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر جون 2026ء تک 18 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے جبکہ مالی سال 2027ء میں یہ ذخائر مزید بڑھ کر تقریباً تین ماہ کی درآمدی کوریج کے قریب پہنچ سکتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جاری میکرو اکنامک استحکام، مالی حالات میں نرمی اور مطلوبہ نقد محفوظ (سی آر آر) کو حال ہی میں 5 فیصد تک کم کرنے کے نتیجے میں معاشی سرگرمی میں بہتری آئی ہے۔

اس کے باعث معاشی نمو کے امکانات بہتر ہوئے ہیں اور مالی سال 2026ء کے لیے حقیقی جی ڈی پی نمو 3.75 سے 4.75 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے جبکہ مالی سال 2027ء میں نمو مزید بڑھنے کا امکان ہے۔رپورٹ میں معاشی منظرنامے کو درپیش خطرات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ عالمی سطح پر تجارتی ٹیرف سے متعلق غیر یقینی صورتحال اور اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھائو خطرات میں شامل ہیں۔

ملکی سطح پر محصولات کی ہدف سے کم وصولی اور منفی موسمیاتی اثرات مہنگائی، بیرونی کھاتوں اور معاشی نمو کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں۔ ان خطرات سے نمٹنے کے لیے ساختی اصلاحات، پیداواریت میں بہتری اور سرکاری اداروں کے نقصانات کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

زری پالیسی رپورٹ میں چار خصوصی باکسز بھی شامل کیے گئے ہیں جن میں اہم معاشی تصورات کی وضاحت کی گئی ہے جن میں زری پالیسی کی ترسیلی میکانزم، اقتصادی سرگرمی کی پیمائش کے لیے حرارتی نقشے کا استعمال اور نجی شعبے سمیت مختلف سٹیک ہولڈرز کے ساتھ سٹیٹ بینک کے منظم مکالمے کی اہمیت شامل ہے۔