اسلام آباد۔9فروری (اے پی پی):سابق وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ جب بھی پاکستان کی معیشت سنبھلنےلگتی ہے،یہاں بدامنی پھیلائی جاتی ہے اور اس میں بھارت کا ہاتھ ہوتا ہے،ہمیں کھل کر اس کو اب جواب دینا ہوگا،اپنی فورسز پر تنقید کرنے کی بجائے ان کی پشت پر کھڑا ہونا ہوگا،دہشت گردی کے عفریت کا مقابلہ مل کر ہی کیا جا …
پاکستان کی سالمیت کے لئے ہمیں اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا، دہشت گردی کے عفریت کا مقابلہ مل کر ہی کیا جا سکتا ہے، بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا ہوگی، راجہ پرویز اشرف

مزید خبریں
اسلام آباد۔9فروری (اے پی پی):سابق وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ جب بھی پاکستان کی معیشت سنبھلنےلگتی ہے،یہاں بدامنی پھیلائی جاتی ہے اور اس میں بھارت کا ہاتھ ہوتا ہے،ہمیں کھل کر اس کو اب جواب دینا ہوگا،اپنی فورسز پر تنقید کرنے کی بجائے ان کی پشت پر کھڑا ہونا ہوگا،دہشت گردی کے عفریت کا مقابلہ مل کر ہی کیا جا سکتا ہے۔
پیر کو قومی اسمبلی اجلاس میں ترلائی میں خودکش حملہ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پوری قوم کو متحد ہوکر اس کے خلاف لڑنا ہے،سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن پاکستان کی سالمیت کے لئے ہمیں اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا ہوگی اور اسے یہ پیغام دینا ہوگا کہ ہم سب اپنی مسلح افواج اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے، وہ چاہتا ہے کہ پاکستان میں بدامنی ہو تاکہ وہ ترقی نہ کرسکے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ اور پرامن پاکستان تمام مسائل کا حل ہے۔انہوں نے اپوزیشن کو دعوت دی کہ وہ بات چیت کی طرف آئے،اسی ایوان میں دونوں اطراف اپنا نکتہ نظر رکھیں اور پھر اتفاق رائے پیدا کریں۔انہوں نے کہا کہ اختلاف رائے چلتا رہے گا،سیاست ہوتی رہے گی۔
راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ اب دشمن نے وفاقی دارالحکومت میں آ کر ہمیں چیلنج کیا ہے،اس سب کے پیچھے ہندوستان ہے اور ہمیں ہندوستان کا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جب ملک سنبھلنے لگتا ہے ،معاشی ترقی کا آغاز ہوتا ہے تو سوچی سمجھی سازش کے تحت ایسے واقعات کئے جاتے ہیں.
ہندوستان نے پاکستان پر غیر اعلانیہ حملہ کر دیا ہے،ہم نے بحیثیت قوم اس کا مقابلہ کرنا ہے،اپنی افواج کے پیچھے کھڑا ہونا ہوگا، ان پر تنقید کرنے والے انڈیا کی بولی بولتے ہیں، ہم سب کو یہاں کھڑے ہو کر ان واقعات کی مذمت کرنی ہوگی، یہاں سے ایک واضح پیغام جانا چاہیے، آپس کے اختلاف اور سیاست کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہماری آواز یک زبان ہونی چاہیے۔








