اسلام آباد۔10فروری (اے پی پی):اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹیکس دہندگان کی معلومات کے افشا سے متعلق ایک اہم عبوری فیصلہ دیتے ہوئے پاکستان انفارمیشن کمیشن (PIC) کے احکامات معطل کر دیے ہیں۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قوانین کے تحت مالیاتی امور اور ٹیکس دہندگان کی شناخت سے متعلق معلومات کی رازداری ایک بالادست قانونی پابندی ہے، جو رائٹ آف ایکسیس ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017 اور آئین …
ٹیکس قوانین کے تحت مالیاتی امور اور ٹیکس دہندگان کی شناخت سے متعلق معلومات کی رازداری بالادست قانونی پابندی ہے،اسلام آ باد ہائی کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔10فروری (اے پی پی):اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹیکس دہندگان کی معلومات کے افشا سے متعلق ایک اہم عبوری فیصلہ دیتے ہوئے پاکستان انفارمیشن کمیشن (PIC) کے احکامات معطل کر دیے ہیں۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قوانین کے تحت مالیاتی امور اور ٹیکس دہندگان کی شناخت سے متعلق معلومات کی رازداری ایک بالادست قانونی پابندی ہے، جو رائٹ آف ایکسیس ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017 اور آئین کے آرٹیکل 19-A پر فوقیت رکھتی ہے۔یہ عبوری حکم جسٹس خالد سومرو نے وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے دائر آئینی درخواستوں (W.P. نمبرز 587 اور 588 آف 2026) پر سماعت کے دوران جاری کیا۔
درخواستوں میں پاکستان انفارمیشن کمیشن کے 8 جنوری 2026 اور 3 دسمبر 2025 کے احکامات کو چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت نے متنازع احکامات معطل کرتے ہوئے فریقین کو موجودہ صورتحال برقرار رکھنے کا حکم دیا اور جواب دہندگان کو نوٹس جاری کر دیے۔سماعت کے دوران چیئرمین ایف بی آر کی جانب سے سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ حافظ احسان احمد کھوکھر عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان انفارمیشن کمیشن نے اپنے قانونی اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے ایسے احکامات جاری کیے جو پارلیمان کی جانب سے نافذ کردہ خصوصی مالیاتی قوانین سے براہِ راست متصادم ہیں۔
ان کے مطابق انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 216، بالخصوص فنانس ایکٹ 2022 کے بعد، ٹیکس دہندگان کی اسیسمنٹ، عدالتی کارروائی، ریکوری، تفتیش اور دیگر متعلقہ امور سے متعلق کسی بھی معلومات کے افشا پر مکمل اور قطعی پابندی عائد کرتی ہے، جو دیگر تمام قوانین پر بالادست ہے۔وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکس معاملات کی رازداری محض انتظامی تقاضا نہیں بلکہ ایک واضح اور شعوری قانون سازی ہے، جس کا مقصد ٹیکس دہندگان کی نجی معلومات کا تحفظ، ٹیکس نظام پر اعتماد کا فروغ اور حساس مالیاتی ڈیٹا کے غلط استعمال کو روکنا ہے۔انہوں نے مزید عدالت کو آگاہ کیا کہ پارلیمان نے تمام وفاقی ٹیکس قوانین میں یکساں پالیسی اختیار کی ہے۔
سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 56-B، فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 کی دفعہ 47-B اور کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 155-H بمعہ کسٹمز رولز 1969 کے رول 124، تمام ٹیکس ریکارڈز اور کارروائیوں کو افشا سے مکمل تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ ان قوانین کے تحت کسی بھی انتظامی یا نیم عدالتی فورم کو معلومات ظاہر کرنے کا اختیار حاصل نہیں، جب تک قانون خود اس کی اجازت نہ دے۔عدالت کو بتایا گیا کہ نجی درخواست گزاروں نے رائٹ آف ایکسیس ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت گزشتہ تقریباً پندرہ برسوں کے دوران جاری ہونے والے ریکوری نوٹسز، ٹیکس دہندگان کی فہرستیں اور مختلف اپیلٹ و عدالتی فورمز پر زیرِ سماعت یا نمٹائے گئے ٹیکس معاملات کا ریکارڈ طلب کیا تھا۔
ایف بی آر نے یہ درخواستیں مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ مطلوبہ معلومات براہِ راست ٹیکس دہندگان کی شناخت اور محفوظ مالیاتی کارروائیوں سے جڑی ہوئی ہیں اور قانوناً افشا نہیں کی جا سکتیں۔پاکستان انفارمیشن کمیشن نے اگرچہ انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت بعض معلومات کے عدم انکشاف کو تسلیم کیا، تاہم اس کے باوجود دیگر مالیاتی قوانین اور انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 140 کے تحت جاری کارروائیوں سے متعلق ٹیکس دہندگان کی شناخت ظاہر کرنے کی ہدایت جاری کر دی تھی۔ ایف بی آر کے وکیل نے اس تفریق کو قانونی طور پر ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ محض شناخت ظاہر کرنے سے بھی محفوظ ٹیکس کارروائیوں کی نوعیت، وجود اور نتائج آشکار ہو جاتے ہیں جو قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔
ایف بی آر کے وکیل نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان انفارمیشن کمیشن کے احکامات پر عملدرآمد کی صورت میں ایف بی آر افسران انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 198 کے تحت فوجداری کارروائی کی زد میں آ سکتے ہیں، جس میں غیر مجاز انکشاف پر تین سال تک قید اور جرمانے کی سزا مقرر ہے۔ ان کے مطابق یہ احکامات سرکاری افسران کو ایک قانونی تضاد اور ناقابلِ عمل صورتحال میں مبتلا کرتے ہیں۔مزید دلائل میں کہا گیا کہ آئین کا آرٹیکل 19-A خود معقول قانونی پابندیوں سے مشروط ہے اور مالیاتی رازداری سے متعلق قوانین انہی معقول پابندیوں کے زمرے میں آتے ہیں۔
عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ اسی نوعیت کے دیگر پاکستان انفارمیشن کمیشن کے احکامات پہلے ہی اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے معطل کیے جا چکے ہیں اور بنیادی قانونی سوال اس وقت عدالت کے سامنے زیرِ سماعت ہے۔فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ معاملہ سنجیدہ اور قابلِ سماعت قانونی نکات پر مشتمل ہے، جس کے لیے مزید عدالتی جانچ ضروری ہے۔ عدالت نے پاکستان انفارمیشن کمیشن کے متنازع احکامات معطل کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیےجبکہ مزید سماعت جواب جمع ہونے کے بعد ہوگی۔








