اسلام آباد۔15فروری (اے پی پی):سندھ طاس معاہدہ کے حوالہ سے بھارتی آبی دہشتگردی اور معاہدہ کی معطلی کی یکطرفہ کوشش کی پر زور مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی قانون کے ماہر اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ ایکسپرٹ شہزاد بھٹی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ بھارتی اقدامات پاکستان کے لئے یکسر ناقابل قبول ہیں، عالمی بینک معاہدہ کے ضامن کے طور پر بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کو فسطائیت پر مبنی غیر قانونی اقدام …
سندھ طاس معاہدہ کا ضامن عالمی بینک بھارتی آبی دہشتگردی کے خاتمہ کے لئے کردار ادا کرے، ایڈووکیٹ شہزاد بھٹی

مزید خبریں
اسلام آباد۔15فروری (اے پی پی):سندھ طاس معاہدہ کے حوالہ سے بھارتی آبی دہشتگردی اور معاہدہ کی معطلی کی یکطرفہ کوشش کی پر زور مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی قانون کے ماہر اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ ایکسپرٹ شہزاد بھٹی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ بھارتی اقدامات پاکستان کے لئے یکسر ناقابل قبول ہیں، عالمی بینک معاہدہ کے ضامن کے طور پر بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کو فسطائیت پر مبنی غیر قانونی اقدام سے باز رکھنے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو قومی خبر رساں ادارہ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) سے خصوصی گفتگو کے دوران کیا۔ شہزاد بھٹی ایڈووکیٹ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کی یکطرفہ معطلی یا التوا بین الاقوامی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بین الاقوامی معاہدات کے حوالہ سے عالمی ثالثی عدالت کے مختلف فیصلے موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کے تحت تین مغربی دریاؤں بشمول سندھ، جہلم اور چناب کے پانی پر پاکستان کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے 1960 میں اس پر دستخط کئے گئے تھے اور سندھ طاس معاہدہ میں بطور ضامن ورلڈ بینک بھی شامل ہے۔ شہزاد بھٹی ایڈووکیٹ نے معاہدہ کی تفصیلات کے حوالہ سے کہا کہ کوئی بھی فریق معاہدہ کو یکطرفہ طور پر معطل، ختم یا التوا میں نہیں رکھ سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے پانیوں میں رکاوٹوں سے زرعی شعبہ اور آبی وسائل سے بجلی کی پیداوار میں مشکلات کے ساتھ ساتھ کروڑوں لوگوں کی آمدنی متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے زرعی شعبہ سے کروڑوں افراد کا روزگار اور غذائی تحفظ جڑا ہوا ہے۔ اسی طرح آبی وسائل سے بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کا خلل سکیورٹی اور معاشی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ شہزاد بھٹی ایڈووکیٹ نے کہا 1948، 1965، 1971 اور 1999 کے پاک بھارت تنازعات کے دوران بھی سندھ طاس معاہدہ برقرار رہا جو اس کی اہمیت کی عکاسی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے سندھ طاس معاہدہ کے تحت مشرقی دریاؤں ستلج، بیاس اور راوی کو بھارت جبکہ مغربی دریاؤں سندھ، جہلم اور چناب کو پاکستان کے لیے مختص کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے معاہدہ کی یکطرفہ معطلی کی خواہش کا کوئی قانونی جواز نہیں اور نہ ہی عالمی برادری اس مکروہ عمل کی حمایت کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ہیگ کی عالمی عدالت برائے ثالثی نے بھی اپنے ایک فیصلہ میں تصدیق کی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک پر لازم ہے اور اس کے یکطرفہ التوا کی اجازت نہیں ہے۔ شہزاد بھٹی ایڈووکیٹ نے کہا کہ معاہدہ کے فریقین باہمی رضامندی سے ہی اس میں ترمیم یا تبدیلی کر سکتے ہیں اور کوئی بھی فریق اس کو یکطرفہ معطل یا ختم نہیں کر سکتا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ سندھ طاس معاہدہ میں یکطرفہ معطلی، التوا یا دستبرداری کی کوئی شق بھی موجود نہیں ہے بلکہ معاہدہ غیر معینہ مدت کے لئے ہے اور حکومتوں کی تبدیلی بھی اس پر اثرانداز نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اگست 2025 میں مستقل عدالت برائے ثالثی نے اپنے فیصلہ میں قرار دیا کہ مغربی دریائوں کے پانی پر پاکستان کا حق ہے اور بھارت کو اپنے پن بجلی منصوبوں کے حوالہ سے معاہدہ کی سختی سے پابندی کرنی چاہئے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات بین الاقوامی آبی قوانین میں ایک خطرناک نظیر قائم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے بھارتی اقدامات سے خطہ میں امن و سلامتی، ترقی اور استحکام بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو نیوکلیئر ریاستوں کے درمیان آبی تنازعہ سے جنوبی ایشیا کے خطہ کا امن متاثر ہونے کا سنگین خطرہ ہے۔
شہزاد بھٹی ایڈووکیٹ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ علاقائی امن، غذائی تحفظ اور معاشی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے سندھ طاس معاہدہ سمیت بین الاقوامی معاہدات کی پاسداری ضروری ہے۔ انہوں نے عالمی برادری اور بطور ضامن خصوصاً عالمی بینک سے مطالبہ کیا کہ سندھ طاس معاہدہ کے تحفظ کیلئے اپنا کردار ادا کریں تاکہ یکطرفہ بھارتی اقدامات سے جنوبی ایشیا کا امن و استحکام متاثر نہ ہو۔








