لاہور۔15فروری (اے پی پی):وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے پولیس اصلاحات کیلئے تین ماہ کی ٹائم لائن مقرر کردی ہے،وزیراعلی نے پولیس کو ہر شہر ی کو سر کہہ کر پکارنے کا حکم دیا ہے،ہر تھانے کے باہر پولیس سے متعلق شکایات کے ازالے کیلئے پنک بٹن نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا،ہر تھانے کے 10اہلکاروں پر باڈی کیم نصب کرنے اور انویسٹی گیشن کی ویڈیو اورآڈیو ریکاڈنگ کرنے کا اصولی …
وزیراعلی پنجاب کی زیر صدارت خصوصی اجلاس، پولیس اصلاحات کیلئے تین ماہ کی ٹائم لائن مقرر ، ہر تھانے کے باہر پولیس سے متعلق شکایات کے ازالے کیلئے پنک بٹن نصب کرنے کا فیصلہ

مزید خبریں
لاہور۔15فروری (اے پی پی):وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے پولیس اصلاحات کیلئے تین ماہ کی ٹائم لائن مقرر کردی ہے،وزیراعلی نے پولیس کو ہر شہر ی کو سر کہہ کر پکارنے کا حکم دیا ہے،ہر تھانے کے باہر پولیس سے متعلق شکایات کے ازالے کیلئے پنک بٹن نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا،ہر تھانے کے 10اہلکاروں پر باڈی کیم نصب کرنے اور انویسٹی گیشن کی ویڈیو اورآڈیو ریکاڈنگ کرنے کا اصولی فیصلہ کیاگیا۔وزیراعلی نے باڈی کیم کے لئے فنڈز کی منظوری دے دی،پولیس سے متعلق چھوٹی چھوٹی شکایات دو تین گھنٹے کے اندر حل کر کے ازالے کا حکم دیا ہے۔
پنجاب بھر میں 14ہزار باڈی کیم اور700پنک بٹن لگائے جائیں گے۔ پنجاب میں ایف آئی آرکے اندراج کیلئے آن لائن ٹریکنگ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیاگیاہے ،کاغذات اورشناختی کارڈ کی گمشدگی کی ایف آئی آر آن لائن درج کرانے کا سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیاگیا۔ وزیراعلی نے آئی جی اوردیگر پولیس افسروں کو خود فون کر کے عوامی فیڈ بیک لینے کا حکم دیاہے، لاہور سمیت پنجاب میں ٹریفک کو لین میں چلنے کا پابند بنانے اور ضلعی انتظامیہ،سی اینڈ ڈبلیو اورٹیپا کو لین مارکنگ کی ہدایت کی ہے۔لوگوں کو سڑک عبور کرنے کے طریقے کار سے آگاہی کا حکم دیاگیا ہے، وزیراعلی مریم نواز نے ٹریفک پولیس ون ایپ اورسیف سٹی مانیٹرنگ ایپ کا بھی آغاز کر دیا ہے۔وزیراعلی پنجاب کی زیر صدارت خصوصی اجلاس منعقد ہوا،جس میں پولیس اصلاحات کا جائزہ لیاگیا۔
وزیراعلی نے پولیس اصلاحات کا جامع پلان طلب کرلیاہے۔بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ایف آئی آر کے اندرا ج کیلئے پولیس پانچ سوال کر سکے گی۔پنجاب کے کرائم میں مجموعی طورپر 48فیصد اوربڑے جرائم میں 80فیصد تک کمی نوٹ کی گئی۔8منٹ میں رسپانس ٹائم دینے سے منفی فیڈ بیک کم ہوا ہے۔ساہیوال اورگجرات جیسے شہروں میں بڑے جرائم کی کال نہ ہونے کے برابرہے۔پراپرٹی کے جھگڑے کم ہونے سے کرائم میں کمی آئی ہے۔ پنجاب میں ہر سال ایک کروڑ 68لاکھ لوگ تھانوں کا وزٹ کرتے ہیں۔ 68فیصد لوگ پولیس خدمت مرکز کی سروسز کے لئے آتے ہیں۔ایف آئی آر کے دیر سے اندراج کی وجہ سے مجرم فائدہ اٹھاتا ہے۔
وزیراعلی نے کہا کہ بچوں کے ساتھ درندگی کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں، پولیس میں بڑے جرم پر چھوٹی سزا اورچھوٹی غلطی پربڑی سزا مل جاتی ہے،ابھی نہیں تو پھر کبھی پولیس ریفارمز نہیں کرسکتے،پولیس سے صرف مجرموں کو ڈرنا چاہیے عوام کو نہیں۔ انہوں نے کہاکہ عوام کو یقین ہونا چاہیے کہ پولیس مشکل میں ان کی مدد کرے گی،پنجاب میں پولیس کیلئے ضابطہ اخلاق اورٹریننگ ضروری ہے،میرے ہوتے ہوئے کوئی بیٹی اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرے یہ برداشت نہیں ہو گا۔ خواتین تھانے نہیں آسکتیں تو موبائل پولیس سٹیشن چل کر ان کے پاس شکایت کے ازالے کیلئے جائیں۔شکایت کرنے والی خاتون کی تذلیل کی بجائے حوصلہ افزائی اور مدد کی جائے ۔ بچے ڈر سے بولتے نہیں،تعلیمی اداروں میں بدسلوکی کی جرات نہیں ہونی چاہیے۔
بچوں کی حفاظت اور خیال نہ رکھنے والے والدین کیلئے قوانین متعارف کرانے چاہتے ہیں۔ خبر آتی ہے کہ آوارہ کتے بچے کو نوچ کر کھا گئے،تو والدین کہا ں تھے۔ انہوں نے کہا کہ پیشگی اقدامات کیلئے پولسنگ کو موثر بنانا ہوگا،رویوں میں تبدیلی بہت ضروری ہے۔ غریب لوگ ڈر کے مارے پولیس کے پاس نہیں جاتے۔ہراسمنٹ کی شکایت پر پولیس کا رویہ سائل کے ساتھ توہین آمیز ہوتا ہے۔شاباش اگر عوام کے سامنے دی جاتی ہے تو سزا بھی عوام کے سامنے دی جائے گی۔لوگوں کا سسٹم پر یقین بحال ہونا چاہی،پولیس کی گرومنگ کی جائے اورموک سیشن کرائے جائیں۔اب کسی پولیس اہلکار کو سر اورجناب کے بغیر بات کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اگر اوپر کی سطح تک کرپشن ہوگی تو اثرات تھانہ لیول تک جائیں گے۔
وزیراعلی نے کہاکہ عوام سے زیادہ کوئی وی آئی پی نہیں۔وی آئی پی کے راستے سے عوام کو ہٹانے کیلئے تذلیل کی اجازت نہیں دیں گے۔کرکٹ ٹیم کو سکیورٹی ضرور دیں لیکن عوام کی عزت کا بھی خیال رکھیں۔یہ پنجاب ہے،کوئی ایسا علاقہ نہیں جہاں غریب کو کو ئی پوچھنے والا نہ ہو۔پولیس میں اصلاحات کیلئے شارٹ ٹرم،مڈٹرم اور لانگ ٹرم پلان تیار کیے جائیں۔لوگوں نے بسنت پر مثبت ردعمل دیاہے۔
روڈز پر ون وے کی خلاف ورزی تقریبا نہ ہونے کے برابر ہے۔قانون کو بلاامتیاز نافذ کرنے کے اچھے نتائج سامنے آرہے ہیں۔ ناکوں پر کھڑے پولیس اہلکاروں کی طرف سے اوئے کہہ کر بلانے کا کلچر ختم کیا جائے۔ غلطیوں کو چھپانے کا رویہ بدلنا ہوگا،شکایت لگانے والے سائل کو مجرم بنانا افسوسناک ہے۔پولیس میں پڑھے لکھے نوجوانوں بچوں کو سامنے لایا جائے،کالج کے طلبہ کو پولیسنگ سکھائی جائے، سٹیزن مینجمنٹ سسٹم اورای ٹیگ انفارمیشن سسٹم لایا جائے۔








