بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی، مگس بانی کے شعبے کےلیے سنگین خطرہ

پشاور۔ 17 فروری (اے پی پی):بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی زراعت اور دیگر شعبوں کی طرح مگس بانی کے شعبے کےلیے بھی ایک سنگین خطرے کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔شہد کی مکھیاں پالنے والے دیگر کثیر مگس بانوں میں سے ایک حسین خان بھی ہیں۔32 سالہ حسین خان شہد کی مکھیوں کے سینکڑوں لکڑی کے ڈبے ایک ٹرک پر لادتے ہیں جو پانی اور …

پشاور۔ 17 فروری (اے پی پی):بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی زراعت اور دیگر شعبوں کی طرح مگس بانی کے شعبے کےلیے بھی ایک سنگین خطرے کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔شہد کی مکھیاں پالنے والے دیگر کثیر مگس بانوں میں سے ایک حسین خان بھی ہیں۔32 سالہ حسین خان شہد کی مکھیوں کے سینکڑوں لکڑی کے ڈبے ایک ٹرک پر لادتے ہیں جو پانی اور شہد کی مکھیوں کے موافق پودوں( بی-فلورا) کی تلاش میں آزاد کشمیر کی طرف روانہ ہوتا ہے۔

حسین خان اور ان جیسے ہزاروں افراد کےلیے آزاد کشمیر اور صوبہ پنجاب کی طرف ہجرت کرنا کوئی انتخاب نہیں بلکہ یہ ان کے خاندانوں اور مکھیوں کی آبادی کی بقا کا معاملہ ہے۔ہر موسم گرما میں جب خیبر پختونخوا کے میدانوں میں درجہ حرارت بڑھتا ہے اور پھول مرجھا جاتے ہیں تو نوشہرہ، صوابی اور مردان جیسے اضلاع سے مگس بان پھولوں کے کھلنے اور بی-فلورا پودوں کے تعاقب میں نکلتے ہیں اور اسی مقصد کے لیے زیادہ تر آزاد کشمیر کے علاقوں میرپور اور مظفر آباد کا رخ کرتے ہیں۔

وہ پنجاب اور آزاد کشمیر کے دریاؤں سے سیراب ہونے والے علاقوں کی طرف منتقل ہوجاتے ہیں جہاں نسبتاً خوشگوار موسم، بہتا ہوا پانی اور درخت شہد کی بڑھتی ہوئی پیداوار کے ساتھ ساتھ ان کی مکھیوں کو زندہ رہنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔اب خیبر پختونخوا کے بہت سے مگس بانوں کو خدشہ ہے کہ بھارت کی جانب سے 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے غیر قانونی اور غیر آئینی اعلان کے بعد یہ نازک سہارا بھی شدید خطرے میں پڑ سکتا ہے۔مگس بانی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مغربی دریاؤں کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کا خلل مکھیوں کی لاکھوں کی آبادی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے، اس کے علاوہ خشک سالی میں شدت آسکتی ہے، بی-فلورا کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور خاص طور پر پنجاب اور آزاد کشمیر میں شہد کی پیداوار کم ہو سکتی ہے۔

خیبر پختونخوا کے محکمہ جنگلات میں مگس بانی کے سابق ڈائریکٹر افتخار خلیل نے کہا کہ پانی مکھیوں کے لیے زندگی ہے، دریاؤں میں بلا تعطل بہاؤ کے بغیر بی-فلورا غائب ہو جاتا ہے اور جب پھول نہیں کھلتے، تو مکھیاں رس جمع نہیں کر پاتیں اور یا تو مرنے لگتی ہیں یا ہجرت پر مجبور ہو جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دریاؤں، جھیلوں اور تالابوں کے قریب جنگلات خاص طور پر مقامی اور جنگلی مکھیوں کے افزائش نسل کےلیے بہترین جگہ ہیں۔موسمیاتی تناؤ چاہے وہ خشک سالی ہو، سیلاب ہو یا ژالہ باری، اس کے اثرات شہد کی پیداوار کو کم کر دیتا ہے۔

ہر سال مئی اور اگست کے درمیان حسین خان اپنے شہد کی مکھیوں کے 500 ڈبوں کو آزاد کشمیر کے علاقے میرپور منتقل کرتے ہیں۔حسین خان کا کہنا ہے کہ ہم وہاں جاتے ہیں جہاں پانی، خوشگوار موسم اور پھول ہوتے ہیں۔ پچھلے سال دریائے کابل میں آنے والے سیلاب نے محب بانڈہ میں میرا فارم تباہ کر دیا تھا، مجھے جو کچھ بچ سکتا تھا اسے بچانے کےلیے تیزی سے آزاد کشمیر منتقل ہونا پڑا۔خیبر پختونخوا کے مگس بان کثرت سے دریائے چناب کے ساتھ پنجاب کے اضلاع جیسے سیالکوٹ، گجرات، گجرانوالہ، منڈی بہاؤالدین، جھنگ اور ملتان اور دریائے جہلم کے ساتھ مظفر آباد، میرپور اور جہلم کا سفر کرتے ہیں۔

یہ علاقے ’’بیری‘‘ اور ’’شیشم‘‘ جیسے رس سے بھرپور درختوں کےلیے مشہور ہیں جو قومی شجرکاری پروگرام کے تحت لگائے گئے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بارشوں میں کمی، جنگلات کی کٹائی اور موسمیاتی تبدیلیوں نے خیبر پختونخوا میں پہلے ہی شہد کے بڑے ذرائع کو کم کر دیا ہے۔حسین خان نے کہا کہ بیری اور شیشم کے درختوں کے غائب ہونے سے خیبر پختونخوا میں خاص طور پر جنگلی مکھیاں جیسے ’’ایپس ڈورساٹا‘‘ خطرے میں پڑ گئی ہیں جس کی وجہ سے بہت سے مگس بان پنجاب اور آزاد کشمیر جانے پر مجبور ہیں۔

محکمہ جنگلات میں مگس بانی کے سابق ڈائریکٹر افتخار خلیل نے بتایا کہ پاکستان میں مکھیوں کی چار بڑی اقسام پائی جاتی ہیں جن میں ایپس سیرانا (چھوٹی مقامی مکھی)، ایپس ڈورساٹا (جنگلی مکھی)، ایپس فلوریا (ننھی مکھی) اور ایپس میلیفرا (درآمد شدہ نسل جو 1977 میں متعارف کرائی گئی) شامل ہیں اور اگر سندھ طاس معاہدہ معطل رہتا ہے تو ان کی آبادی کم ہونے کا خدشہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے ’’ایپس میلیفرا‘‘ تجارتی شہد کی پیداوار میں سرفہرست ہے جو سال میں دو بار فی ڈبہ 20 سے 25 کلوگرام شہد پیدا کرتی ہے جو کہ مقامی اقسام سے کہیں زیادہ ہے تاہم یہ بیکٹیریل بیماریوں جیسے کہ امریکن اور یورپین فول بروڈ کا بھی شکار ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی عدم استحکام کے ساتھ ان خطرات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

افتخار خلیل نے کہا کہ معمولی سی موسمیاتی تبدیلی یا پانی کی کمی بھی شہد کی پیداوار کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان مکھیوں کی آبادی کی بقا کےلیے احتیاطی تدابیر، جدید تکنیک اور پانی کا تحفظ ضروری ہے، بڑھتے ہوئے چیلنجوں کے باوجود مگس بانی پاکستان کی دیہی معیشت کا ایک ستون ہے۔صنعت کے ماہرین کا تخمینہ ہے کہ اگر پاکستان سالانہ 70,000 میٹرک ٹن کی اپنی ممکنہ پیداوار تک پہنچ جاتا ہے تو یہ 43 ارب روپے کی آمدنی پیدا کر سکتا ہے اور ایک لاکھ سے زیادہ ملازمتیں فراہم کر سکتا ہے۔آل پاکستان بی کیپرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری شیر زمان نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے اعلان کی مذمت کی جس نے پاکستان میں مکھیوں کی آبادی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی شہد بالخصوص بیری اور شیشم کی اقسام جن کی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، امریکہ، چین، آذربائیجان اور ملائیشیا میں مانگ ہے، ان کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے اور ہزاروں مگس بان بھوک اور فاقہ کشی کا شکار ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا شہد ذائقے اور طبی اہمیت سے مالا مال ہے، ہمیں مضبوط مارکیٹنگ، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ پالیسیوں اور حکومتی تعاون کی ضرورت ہے۔افتخار خلیل نے کہا کہ مکھیاں صرف شہد پیدا کرنے والی نہیں ہیں بلکہ وہ زیرگی (پولینیشن) کا ذریعہ ہیں جو عالمی غذائی نظام کےلیے انتہائی اہم ہیں۔ماہرین کا تخمینہ ہے کہ عالمی غذائی پیداوار کا ایک تہائی حصہ شہد کی مکھیوں اور دیگر حشرات کی زیرگی(پولینشن) پر منحصر ہے۔

سیب، بادام اور کھیرے جیسی فصلیں ان پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں۔افتخار خلیل نے کہا کہ مکھیاں ہمارے ماحولیاتی نظام کی محافظ ہیں،سندھ طاس معاہدے کی معطلی یا موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے انہیں کھونا صرف ایک صنعت کا خاتمہ نہیں ہوگا بلکہ یہ خوراک کی فراہمی، زراعت اور حیاتیاتی تنوع کےلیے خطرہ ہوگا جو لاکھوں لوگوں کے لیے ضروری ہے۔

اسلام آباد پشاور موٹر وے اور انڈس ہائی وے پر سفر کرنے والے لوگ پہلے ہی صوابی، مردان، کرک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں خشک اور بنجر زمین کے پھیلے ہوئے ٹکڑے دیکھ رہے ہیں جو خشک سالی اور صحرا زدگی کی سنگین یاد دہانی ہیں،جیسے جیسے موسمیاتی عدم استحکام غیر یقینی بارشوں، طویل خشک سالی اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے ساتھ اپنی گرفت مضبوط کر رہا ہے، پاکستانی مگس بان ہندوتوا بھارتی حکومت کے غیر قانونی اقدام کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرے سے دوچار صفِ اول میں کھڑے ہیں۔

ان کے مطالبات میں مغربی دریاؤں میں پانی کا بلا تعطل بہاؤ، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زرعی پالیسیاں، شہد پیدا کرنے والے درختوں کی شجرکاری، بیماریوں کے کنٹرول کےلیے تعاون، بلا سود قرضے اور موسمی ہجرت میں آسانی کےلیے مگس بانوں کو شناختی کارڈز کا اجراء شامل ہیں۔حسین خان کےلیے سندھ طاس معاہدے کا مسئلہ انتہائی تشویشناک ہے۔رمضان شروع ہونے سے پہلے آزاد کشمیر کی پہاڑیوں کی طرف روانہ ہوتے ہوئے اپنے ٹرک کو دیکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب پھول کھلتے ہیں تو مکھیاں گاتی ہیں لیکن اگر پانی رک گیا تو مکھیاں مر جائیں گی اور اگر مکھیاں مر گئیں تو ہمارا کیا ہوگا؟

مزید خبریں