اقوام متحدہ ۔25فروری (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے یوکرین جنگ کے چار سال مکمل ہونے پر فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کے مطالبے پر مبنی قرارداد منظور کر لی، تاہم پاکستان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔قرارداد کے حق میں 107 ووٹ آئے جبکہ 12 ممالک نے مخالفت کی اور 51 ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ …
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جنگ بندی کی قرارداد منظور، پاکستان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔25فروری (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے یوکرین جنگ کے چار سال مکمل ہونے پر فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کے مطالبے پر مبنی قرارداد منظور کر لی، تاہم پاکستان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔قرارداد کے حق میں 107 ووٹ آئے جبکہ 12 ممالک نے مخالفت کی اور 51 ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ قرارداد یوکرین کی جانب سے پیش کی گئی تھی اور اسے 46 ممالک کی تائید حاصل تھی۔منظور شدہ متن میں جنگ کے علاقائی اور عالمی اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے روس کی جانب سے شہری آبادی، سویلین تنصیبات اور توانائی کے اہم ڈھانچے پر حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
قرارداد میں یوکرین کی خودمختاری، آزادی، اتحاد اور علاقائی سالمیت بشمول علاقائی پانیوں کے احترام کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔قرارداد میں فوری، مکمل اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے جنگی قیدیوں کے مکمل تبادلے، غیر قانونی طور پر حراست میں لیے گئے افراد کی رہائی اور جبراً منتقل یا بے دخل کیے گئے شہریوں، خصوصاً بچوں، کی واپسی پر زور دیا گیا ہے۔قرارداد کے محرکین کے مطابق یہ ووٹنگ روسی حملے کی برسی کے موقع پر یوکرین کے ساتھ عالمی یکجہتی کا امتحان تھی۔
دوسری جانب امریکا نے قرارداد پر ’’موشن فار ڈویژن‘‘ پیش کرتے ہوئے پس منظر کے دوسرے پیراگراف اور کارروائی سے متعلق دوسری شق کو علیحدہ ووٹنگ کے لیے پیش کرنے کی تجویز دی۔ یوکرین کی نائب وزیر خارجہ ماریانا بٹسا نے اس اقدام کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔اقوامِ متحدہ میں امریکا کی نائب مندوب ٹیمی بروس نے مؤقف اختیار کیا کہ قرارداد کی زبان کے کچھ حصے جاری سفارتی مذاکرات سے توجہ ہٹا سکتے ہیں اور پائیدار امن کے لیے ممکنہ سفارتی راستوں کی حمایت کے بجائے رکاوٹ بن سکتے ہیں۔








