آسٹریلیا میں خون کا نیا ٹیسٹ تیار، سر اور گردن کے کینسر کے دوبارہ ہونے کے خطرے کی نشاندہی کرے گا

سڈنی۔25فروری (اے پی پی):آسٹریلیا کے سائنس دانوں نے ایک سادہ خون کا ٹیسٹ تیار کیا ہے جو خون میں گردش کرنے والے ٹیومر خلیات کی نشاندہی کر کے سر اور گردن کے کینسر کے ان مریضوں کی شناخت میں مدد دیتا ہے جن میں سرجری کے بعد بیماری کے دوبارہ ظاہر ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ شنہوا کے مطابق بدھ کو جاری بیان میں سینٹینری انسٹی ٹیوٹ سےجاری بیان …

سڈنی۔25فروری (اے پی پی):آسٹریلیا کے سائنس دانوں نے ایک سادہ خون کا ٹیسٹ تیار کیا ہے جو خون میں گردش کرنے والے ٹیومر خلیات کی نشاندہی کر کے سر اور گردن کے کینسر کے ان مریضوں کی شناخت میں مدد دیتا ہے جن میں سرجری کے بعد بیماری کے دوبارہ ظاہر ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

شنہوا کے مطابق بدھ کو جاری بیان میں سینٹینری انسٹی ٹیوٹ سےجاری بیان میں کہا گیا ہے کہ محققین نے سرجری کے بعد لیے گئے خون کے نمونوں کا تجزیہ کیا اور پایا کہ خون میں موجود گردش کرنے والے ٹیومر خلیات، جو اصل رسولی سے الگ ہو کر خون میں شامل ہو جاتے ہیں،

بیماری کے دوبارہ ہونے کے امکانات میں اضافے سے منسلک ہیں۔ یورپین جرنل آف سرجیکل آنکولوجی میں شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا کہ آسٹریلیا میں ہر سال تقریباً 5500 افراد سر اور گردن کے کینسر کی تشخیص کا سامنا کرتے ہیں ، اگرچہ بہت سے مریض علاج کے بعد بہتر ہو جاتے ہیں تاہم ایک قابل ذکر تعداد میں بیماری دوبارہ ظاہر ہو جاتی ہے۔

مطالعے کے شریک سینئر مصنف جوناتھن کلارک نے کہا کہ مریضوں کی فالو اپ دیکھ بھال زیادہ تر سکین اور طبی معائنوں پر انحصار کرتی ہے، جو ہمیشہ ابتدائی مرحلے میں بیماری کے دوبارہ ہونے کے خطرات کی نشاندہی نہیں کر پاتے۔

مطالعے کے مرکزی مصنف ڈینل یو نے کہا کہ گردش کرنے والے ٹیومر خلیات کی نشاندہی ایسے مریضوں کی بہتر شناخت میں مدد دے سکتی ہے جنہیں سرجری کے بعد زیادہ قریب سے نگرانی کی ضرورت ہو۔محققین کے مطابق یہ نتائج اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ خون پر مبنی بائیو مارکرز مستقبل میں کینسر کے زیادہ ذاتی نوعیت کے علاج میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

 

مزید خبریں