لیپ ٹاپ سکیم محض ڈیجیٹل ڈیوائسز کی تقسیم نہیں بلکہ یہ نوجوانوں کے مستقبل میں ریاست کی ایک سٹریٹجک سرمایہ کاری ہے،وفاقی وزیرانجینئر امیر مقام

پشاور۔ 25 فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران اور صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ لیپ ٹاپ سکیم محض ڈیجیٹل ڈیوائسز کی تقسیم نہیں بلکہ یہ نوجوانوں کے مستقبل میں ریاست کی ایک سٹریٹجک سرمایہ کاری ہے، آج کی دنیا میں قومیں محض افرادی قوت کی تعداد سے نہیں بلکہ اپنی افرادی قوت کی ذہنی صلاحیت، …

پشاور۔ 25 فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران اور صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ لیپ ٹاپ سکیم محض ڈیجیٹل ڈیوائسز کی تقسیم نہیں بلکہ یہ نوجوانوں کے مستقبل میں ریاست کی ایک سٹریٹجک سرمایہ کاری ہے، آج کی دنیا میں قومیں محض افرادی قوت کی تعداد سے نہیں بلکہ اپنی افرادی قوت کی ذہنی صلاحیت، تخلیقی سوچ اور تکنیکی مہارت کی بنیاد پر مقابلہ کرتی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور حیات آباد کیمپس میں وزیراعظم لیپ ٹاپ سکیم کی تقسیم کی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ آج میرے لیے یہ لمحہ انتہائی مسرت، فخر اور جذبات سے بھرپور ہے کہ میں اپنی مادرِ علمی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور میں بطور مہمانِ خصوصی موجود ہوں، یہی وہ درسگاہ ہے جہاں سے میں نے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی، جہاں میرے خوابوں نے سمت پائی، اور جہاں سے میں نے عملی زندگی کا سفر شروع کیا۔ آج اسی جامعہ میں اپنے ہونہار طلبہ میں لیپ ٹاپس تقسیم کرنا میرے لیے باعثِ اعزاز بھی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ انجینئرنگ کسی بھی ملک کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے، سڑکوں سے لے کر ڈیموں تک صنعتوں سے لے کر انفارمیشن ٹیکنالوجی تک، توانائی سے لے کر دفاع تک ہر شعبے میں انجینئرز کا کردار بنیادی اور کلیدی ہے۔ ایک مضبوط معیشت کی بنیاد مضبوط انفراسٹرکچر اور جدید ٹیکنالوجی پر ہوتی ہے اور یہ ذمہ داری انجینئرز ہی کے کندھوں پر ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج کا دور ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی کا دور ہے اور وہ قومیں ترقی کی دوڑ میں آگے ہیں جو سائنسی و تکنیکی تعلیم پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں،بطور انجینئر میں نے ہمیشہ انجینئرز کے مسائل اور ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کی ہے۔ چاہے وہ اسمبلی کا فلور ہو، کابینہ کا اجلاس ہو یا کوئی اور فورم میں نے انجینئرز کے روزگار، ان کی پیشہ ورانہ عزت اور ان کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہوں گا کیونکہ میں جانتا ہوں کہانجینئر کی محنت اور صلاحیت ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج کی اس تقریب میں 950 لیپ ٹاپس کی تقسیم ایک اہم قدم ہے،یہ اقدام طلبہ کو عالمی آن لائن کورسز، بین الاقوامی تحقیقی لائبریریوں اور جدید تکنیکی مہارتوں تک براہِ راست رسائی فراہم کرتا ہے، وہ مہارتیں جو آج کی علم پر مبنی معیشت میں کامیابی کی بنیاد ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا میں قومیں محض افرادی قوت کی تعداد سے نہیں بلکہ اپنی افرادی قوت کی ذہنی صلاحیت، تخلیقی سوچ اور تکنیکی مہارت کی بنیاد پر مقابلہ کرتی ہیں، جو ممالک انسانی سرمائے، تحقیق، جدت اور ٹیکنالوجی میں بروقت سرمایہ کاری کرتے ہیں، وہی عالمی ترقی کی قیادت کرتے ہیں، پاکستان کو بھی اسی راستے پر گامزن کرنے کے لیے بروقت اور دوراندیش اقدامات کیے گئے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر ہم ابھرتے ہوئے ٹیکنالوجیکل شعبوں میں کیے گئے اہم اقدامات کا ذکر کریں تو 2017 میں نیشنل سنٹر فار آرٹیفیشل انٹیلیجنس قائم کیا گیا، اس وقت جب پاکستان میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس ابھی عام موضوع نہیں بنا تھا، آج یہ مرکز ملک میں اے آئی تحقیق کا اہم ستون ہے۔ ڈیجیٹل خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے نیشنل سنٹر فار سائبر سکیورٹی کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ سائبر خطرات سے موثر انداز میں نمٹا جا سکے۔

جدید ڈیٹا تجزیاتی صلاحیت کو فروغ دینے کےلیے نیشنل سنٹر فار بیگ ڈیٹا اینڈ کلاؤڈ کمپیوٹنگ بنایا گیا، متعدد انجینئرنگ جامعات کو قومی اختراعی نیٹ ورک سے منسلک کیا گیا تاکہ تحقیق کو صنعت سے جوڑا جا سکے اور لیبارٹری کی سطح پر ہونے والی تحقیق کو مارکیٹ تک پہنچایا جا سکے، اسی تسلسل میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کو معاشی ترقی کے سٹریٹجک محرک کے طور پر آگے بڑھایا گیا جس نے انفراسٹرکچر، توانائی اور صنعتی شعبوں میں نئی راہیں کھولیں۔ نوجوان اور فریش انجینئرز کو عملی میدان میں مواقع فراہم کرنے کے لیے ایک تاریخی اقدام کے تحت پی ایس ڈی پی منصوبوں میں دس ہزار انٹرن شپس کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔اس پروگرام کے تحت ایک سالہ انٹرن شپ کے دوران ہر انجینئر کو ماہانہ پچاس ہزار روپے وظیفہ دیا جائے گا بالکل اسی طرز پر جیسے ڈاکٹرز کو ہاؤس جاب کے دوران معاوضہ دیا جاتا ہے۔

اس اقدام کا مقصد نوجوان انجینئرز کو باعزت روزگار کے مواقع اور عملی تجربہ فراہم کرنا ہے تاکہ وہ صنعت اور قومی منصوبوں میں موثر کردار ادا کر سکیں۔ یہ اہم پروگرام وزیرِاعظم شہباز شریف کی قیادت میں مارچ میں پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے تحت باضابطہ طور پر لانچ کیا جائے گا۔ یہ تمام اقدامات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ حکومت نوجوانوں کو محض وعدے نہیں بلکہ عملی مواقع فراہم کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمارا ہدف یہ ہے کہ پاکستان کا نوجوان صرف ملازمت کا متلاشی نہ رہے بلکہ ٹیکنالوجی، تحقیق اور جدت کے ذریعے معیشت کا معمار بنے، یہی وژن ایک مضبوط، خودمختار اور ترقی یافتہ پاکستان کی ضمانت ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ آج کے اس پروگرام میں نہ صرف یو ای ٹی پشاور بلکہ یو ای ٹی بنوں، یو ای ٹی نوشہرہ اور یو ای ٹی ایبٹ آباد کے طلبہ بھی شامل ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم پورے صوبے میں یکساں تعلیمی ترقی اور مواقع کی فراہمی کے لیے کوشاں ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ نوجوانوں کی تعلیم، ہنر اور ٹیکنالوجی تک رسائی ہماری اولین ترجیح ہے، ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے نوجوان صرف ڈگریاں ہی نہ لیں بلکہ وہ انوویشن کریں، روزگار پیدا کریں، اور پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لا کھڑا کریں۔ وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے طلبہ سے کہا کہ آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ انجینئرنگ جیسے باوقار اور باصلاحیت شعبے سے وابستہ ہیں، محنت، دیانت اور لگن کو اپنا شعار بنائیں، اپنے اساتذہ کی رہنمائی سے فائدہ اٹھائیں اور اپنی صلاحیتوں کو ملک و قوم کی خدمت کے لیے بروئے کار لائیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ اپنی مادرِ علمی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جس نے مجھے اور آپ جیسے ہزاروں طلبہ کو علم، شعور اور کردار کی دولت سے مالا مال کیا۔ قبل ازیں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور کے وائس چانسلر، فیکلٹی اراکین اور انتظامیہ نے یونیورسٹی کیمپس پہنچنے پر وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام کا پرتپاک استقبال کیا۔ وفاقی وزیر کو یونیورسٹی کے بارے میں بریفنگ دی گئی اور مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وفاقی وزیر نے یونیورسٹی کے کردار کو سراہتے ہوئے مسائل کے حل کےلیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔