اقوام متحدہ ۔25فروری (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا ہے کہ غیر ملکی قبضے میں رہنے والے بچے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور تشدد کا سب سے زیادہ شکار ہوتے ہیں، لہٰذا عالمی برادری کو تنازعات کی بنیادی وجوہات کے خاتمے اور پرامن حل کے ذریعے بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا۔سلامتی کونسل کا یہ اجلاس اریا فارمولا فارمیٹ کے …
غیر ملکی قبضے میں معصوم بچے انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کا شکار ہو تے ہیں، پاکستانی مندوب کا سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔25فروری (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا ہے کہ غیر ملکی قبضے میں رہنے والے بچے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور تشدد کا سب سے زیادہ شکار ہوتے ہیں، لہٰذا عالمی برادری کو تنازعات کی بنیادی وجوہات کے خاتمے اور پرامن حل کے ذریعے بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا۔سلامتی کونسل کا یہ اجلاس اریا فارمولا فارمیٹ کے تحت منعقد ہوا جس کا عنوان ’’ریڈ ہینڈ ڈے 2026: مسلح تنازعات میں بچوں کی بھرتی اور استعمال کی روک تھام کے لیے محفوظ تعلیم‘‘ تھا۔ اجلاس کا انعقاد پاناما نے کیا۔پاکستانی مشن کے فرسٹ سیکرٹری ذوالفقار علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقے خصوصاً غزہ اور مغربی کنارے میں بے شمار بچے شہید یا ہمیشہ کے لیے معذور ہو چکے ہیں۔
انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں بچوں کی حالت زار، جو ماضی میں اقوام متحدہ کی رپورٹس میں درج رہی ہے، حالیہ رپورٹس میں شامل نہیں کی گئی، حالانکہ 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات کے بعد صورتحال مزید ابتر ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی نظراندازی زمینی حقائق کو دھندلا دیتی ہے۔پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ مئی میں بھارت کی جارحیت کے دوران شہری آبادی کو دانستہ نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 15 بچے شہید ہوئے۔
انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی قانون مسلح تنازعات میں بچوں کے تحفظ، تعلیم کے حق اور تعلیمی اداروں کے احترام کی ضمانت دیتا ہے۔انہوں نے اس حوالے سے کنونشن آن دی رائٹس آف دی چائلڈ، سلامتی کونسل قرارداد 1998 اور اقوام متحدہ جنرل اسمبلی قرارداد 64/290 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان بین الاقوامی ذمہ داریوں پر عملدرآمد کے لیے پُرعزم ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے بچوں اور مسلح تنازعات سے متعلق سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندے کے ساتھ ایک روڈ میپ پر بھی دستخط کیے ہیں اور قومی ترجیحات اور بین الاقوامی وعدوں کے مطابق بچوں کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔








