قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی آئندہ مالی سال کیلئے سرکاری شعبہ کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کی منظوری کی سفارش

اسلام آباد۔25فروری (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ ومحصولات نے آئندہ مالی سال کیلئے سرکاری شعبہ کے سالانہ ترقیاتی پروگرام ( پی ایس ڈی پی) کی منظوری کی سفارش کر دی ہے تاہم کمیٹی نے واضح کیاہے کہ پی ایس ڈی پی پر تفصیلی غور آئندہ اجلاس میں کیا جائے گا اور متعلقہ وزارت کو ہدایت کی جائے گی کہ وہ کمیٹی کی جانب سے طلب کی …

اسلام آباد۔25فروری (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ ومحصولات نے آئندہ مالی سال کیلئے سرکاری شعبہ کے سالانہ ترقیاتی پروگرام ( پی ایس ڈی پی) کی منظوری کی سفارش کر دی ہے تاہم کمیٹی نے واضح کیاہے کہ پی ایس ڈی پی پر تفصیلی غور آئندہ اجلاس میں کیا جائے گا اور متعلقہ وزارت کو ہدایت کی جائے گی کہ وہ کمیٹی کی جانب سے طلب کی جانے والی مزید معلومات اور وضاحتیں فراہم کرے۔ قائمہ کمیٹی کا 22واں اجلاس بدھ کو یہاں پارلیمنٹ ہاؤس میں سید نوید قمر کی زیر صدارت منعقدہ ہوا۔ اجلاس کے دوران گزشتہ اجلاس کے منٹس کی توثیق کی گئی۔ اجلاس میں بتایاگیا کہ فنانشل ارینجمنٹس بل 2025 اور پارلیمنٹری بجٹ آفس بل 2025 کے حوالے سے حکومت اور کمیٹی کے درمیان اتفاقِ رائے ہو چکا ہے، مفاہمت کو مؤثر بنانے کے لئے کمیٹی نے وزارتِ خزانہ کو مذکورہ بلز کا نظرِ ثانی شدہ، درست شدہ اور تازہ ترین مسودہ جس میں سابقہ غور و خوض کے دوران دی گئی آراء اور سفارشات کو شامل کیا گیا ہو، آئندہ اجلاس میں کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی، مذکورہ ایجنڈا آئٹمز پر مزید غور آئندہ اجلاس تک مؤخر کر دیا گیا۔

اجلاس میں ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان (ترمیمی) بل 2026 پر غورہوا، مجوزہ مسودے کی شق وار جانچ کے دوران کمیٹی نے بعض دفعات پر سنجیدہ تحفظات کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ بل کو اراکین کی جانب سے پیش کردہ آراء اور سفارشات کی روشنی میں ازسرِنو مرتب کیا جائے، بل پر مزید غور آئندہ اجلاس تک مؤخر کر دیا گیا اور ہدایت کی گئی کہ نظرِ ثانی شدہ مسودہ کمیٹی کو پیشگی فراہم کیا جائے۔اجلاس میں شازیہ مری کے کمپنیز (ترمیمی) بل 2026 کا بھی جائزہ لیاگیا۔کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ اسی نوعیت کا ایک بل حال ہی میں کمیٹی سے منظور ہو چکا ہے اور قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد اس وقت سینیٹ میں زیرِ غور ہے۔ اس تناظر میں کمیٹی کی رائے تھی کہ موجودہ بل سابقہ قانون سازی کی ڈپلیکیشن ثابت ہو سکتا ہے تاہم محرکِ نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا بل دائرہ کار اور مقاصد کے لحاظ سے بالخصوص اس لئے مختلف ہے کیونکہ اس میں نجی شعبے کی کمپنیوں کے لئے کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے اخراجات کو لازمی قرار دینے کی تجویزدی گئی ہے۔

بحث کے بعد کمیٹی نے متعلقہ وزارت کو ہدایت کی کہ نجی اداروں کی جانب سے کارپوریٹ سماجی زمہ داری CSR اخراجات کی مقدار اور نوعیت سے متعلق جامع اعداد و شمار فراہم کئے جائیں اور یہ معلومات محرکِ بل کو مزید غور کے لئے مہیا کی جائیں۔ چنانچہ بل پر مزید غور آئندہ اجلاس تک مؤخر کر دیا گیا۔اجلاس میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام پر بھی غور کیا گیا تاہم وقت کی کمی کے باعث اس پر تفصیلی اور جامع بحث نہ ہو سکی متعلقہ قواعد کے تحت عائد قانونی ذمہ داری، جس کے مطابق کمیٹی کو مالی سال میں یکم مارچ سے قبل اپنی سفارشات پیش کرنا ہوتی ہیں، کو مدنظر رکھتے ہوئے کمیٹی نے مجبوری کے تحت اس مرحلے پر پی ایس ڈی پی کی منظوری کی سفارش کر دی تاہم واضح طور پر ریکارڈ پر لایا گیا کہ پی ایس ڈی پی پر تفصیلی غور آئندہ اجلاس میں کیا جائے گا اور متعلقہ وزارت کو ہدایت کی جائے گی کہ وہ کمیٹی کی جانب سے طلب کی جانے والی مزید معلومات اور وضاحتیں فراہم کرے۔

اجلاس میں رانا ارادت شریف خان،زیب جعفر،محمدعثمان اویسی،بلال فاروق،سمیع الحسن گیلانی،ڈاکٹرمرزااختیاربیگ،حناربانی کھر،شاہدہ بیگم،شرمیلافاروقی،نفیسہ شاہ،شازیہ مری، علی زاہد،وزیرخزانہ محمداورنگزیب، وزیرمملکت خزانہ،سیکرٹری خزانہ، چیئرمین ایف بی آر اور ایف بی آر کے دیگرافسران بھی اس موقع پرموجودتھے۔