سعودی عرب نے کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے نئی ترامیم جاری کردیں

ریاض ۔26فروری (اے پی پی):سعودی عرب کی وزارتِ افرادی قوت نے مملکت میں ورک فورس کی فلاح و بہبود کے حوالے سے لیبر لا میں ہونے والی نئی ترامیم جاری کی ہیں۔عرب نیوز کے مطابق وزیر افرادی قوت کا کہنا ہے مملکت میں آجر و اجیر کے معاملات کو بہتر اور فریقین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے قوانین میں ترمیم کی گئی ہے۔یہ تبدیلیاں مختلف شعبوں …

ریاض ۔26فروری (اے پی پی):سعودی عرب کی وزارتِ افرادی قوت نے مملکت میں ورک فورس کی فلاح و بہبود کے حوالے سے لیبر لا میں ہونے والی نئی ترامیم جاری کی ہیں۔عرب نیوز کے مطابق وزیر افرادی قوت کا کہنا ہے مملکت میں آجر و اجیر کے معاملات کو بہتر اور فریقین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے قوانین میں ترمیم کی گئی ہے۔یہ تبدیلیاں مختلف شعبوں سے متعلق ہیں جن میں کان کنی، معدنیات، مینٹیننس اور آپریشنل ضوابط میں کی جانے والی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔بیرون ملک سے افرادی قوت درآمد کرنے والے ادارے، گھریلو ملازمین اور مین پاور سیکٹر سے متعلق اداروں کے لیے ضوابط مقرر کیے گئے ہیں۔

وزارتِ افرادی قوت کے مطابق اداروں کی درجہ بندی وہاں موجود کارکنوں کی تعداد کے مطابق کی گئی ہے۔ایسے ادارے جہاں کارکنوں کی تعداد 20 سے کم ہے انہیں درجہ ’ج‘ میں رکھا گیا، 21 سے 49 کارکنوں والے ادارے ’ب ‘ اور 50 سے زائد اداروں کو ’الف‘ کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔ان اداروں کی انتظامیہ کے لیے لازمی ہے کہ کارکنوں کی جسمانی صحت اور سلامتی کو یقینی بنایا جائے۔

سنگین سیفٹی خلاف ورزی ریکارڈ ہونے کی صورت میں درجہ ’ج‘ کے ادارے پر 1500 ریال جبکہ ’ب‘ پر 2500 اور الف پر 5000 ریال جرمانہ عائد کیا جائےگا۔آجر پر لازم ہوگا کہ وہ کام کی جگہوں پر ہیلتھ اینڈ سیفٹی ضوابط کے نکات عربی اور انگلش میں واضح طورپر تحریر کریں، ایسا نہ کرنے کی صورت میں غیرسنگین خلاف ورزی درج کی جائے گی۔

 

مزید خبریں