چینی عدالتوں کا شمالی میانمار سے تعلق رکھنے والے دو بڑے جرائم پیشہ گروہوں کے مقدمات کا فیصلہ، 16 مجرموں کو سزائے موت

بیجنگ ۔26فروری (اے پی پی):چین کی عدالتوں نے شمالی میانمار میں قائم دو بڑے جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف مقدمات کا فیصلہ سنا دیا ،ان میں ٹیلی کام اور آن لائن فراڈ میں ملوث عناصر شامل تھے، مجموعی طور پر 39 افراد کو عمر قید یا اس سے زیادہ سخت سزائیں دی گئیں جن میں سے 16 مجرموں کو سزائے موت سنائی گئی۔ شنہوا کے مطابق یہ بات چین کی …

بیجنگ ۔26فروری (اے پی پی):چین کی عدالتوں نے شمالی میانمار میں قائم دو بڑے جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف مقدمات کا فیصلہ سنا دیا ،ان میں ٹیلی کام اور آن لائن فراڈ میں ملوث عناصر شامل تھے، مجموعی طور پر 39 افراد کو عمر قید یا اس سے زیادہ سخت سزائیں دی گئیں جن میں سے 16 مجرموں کو سزائے موت سنائی گئی۔

شنہوا کے مطابق یہ بات چین کی اعلیٰ عوامی عدالت نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں بتائی۔اعلیٰ عوامی عدالت کے مطابق 2025 کے اختتام تک ملک بھر کی عدالتوں نے شمالی میانمار سے جڑے ٹیلی کام فراڈ کے 27 ہزار سے زائد مقدمات کے ابتدائی فیصلے مکمل کیے جبکہ 41 ہزار سے زیادہ ملزمان کو سزائیں سنائی گئیں۔

ان مقدمات میں مجموعی طور پر 39 افراد کو عمر قید یا اس سے زیادہ سخت سزائیں دی گئیں جن میں سے 16 مجرموں کو سزائے موت سنائی گئی۔عدالتی حکام کے مطابق سرحد پار سرگرم ان دونوں مسلح جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے جس سے اندرون و بیرون ملک سرگرم جرائم پیشہ عناصر کو سخت دھچکا پہنچا ۔

اعلیٰ عوامی عدالت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ٹیلی کام اور آن لائن فراڈ کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھا جائے گا تاکہ شہریوں کے مفادات اور سماجی استحکام کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔