اسلام آباد۔28فروری (اے پی پی):ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی ) کے سلمان میاں اور ڈاکٹر راجہ ایم علی سلیم پر مشتمل وفد نے کنٹری ڈائریکٹر ایما فین کی قیادت میں ایس ای سی پی ہیڈ آفس کا دورہ کیا۔سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ( ایس ای سی پی )کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو اور انشورنس ٹیم نے وفد کے ساتھ پاکستان کے انشورنس سیکٹر میں جاری اصلاحات …
ایشیائی ترقیاتی بینک وفد کا انشورنس اصلاحات پر تباد لہ خیال کے لیے ایس ای سی پی کا دورہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔28فروری (اے پی پی):ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی ) کے سلمان میاں اور ڈاکٹر راجہ ایم علی سلیم پر مشتمل وفد نے کنٹری ڈائریکٹر ایما فین کی قیادت میں ایس ای سی پی ہیڈ آفس کا دورہ کیا۔سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ( ایس ای سی پی )کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو اور انشورنس ٹیم نے وفد کے ساتھ پاکستان کے انشورنس سیکٹر میں جاری اصلاحات اور مستقبل میں تعاون کے شعبوں پر تبادلہ خیال کیا۔ایس ای سی پی کی جانب سے ہفتہ کو جاری اعلامیہ کے مطابق ملاقات کے دوران ایس ای سی پی حکام نے وفد کووزارت قانون کے زیر غور ایک انشورنس کے ایک نئے قانون سمیت جامع اصلاحات کے بارے میں بریفنگ دی۔
مجوزہ قانون میں مارکیٹ تک رسائی، کاروبار میں آسانی، ڈیجیٹلائزیشن، مصنوعات میں جدت اور پالیسی ہولڈرز کے تحفظ کے لیے نگران اختیارات میں اضافہ جیسے ریگولیٹری شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔وفد کو دیگر اہم اقدامات کے بارے میں بھی بتایا گیا، جن میں زرعی انشورنس کے لیے انشورنس کمپنیوں کے کنسورشیم کا قیام ، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے قرض لینے والے اور نہ لینے والے دونوں طرح کے کسانوں کے لیے فصلوں کے بیمہ کا دائرہ کار بڑھانا اور لازمی انشورنس کی اقسام میں اضافہ شامل ہے۔
ایس ای سی پی نے اہم عوامی اثاثوں کے لیے لازمی ‘کیٹاسٹرافی انشورنس’ (آفات سے بچاؤ کا بیمہ)، سیٹلائٹ پر مبنی تشخیص اور ڈیجیٹل کلیم سسٹمز جیسی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور شفافیت و کارکردگی بڑھانے کے لیے ڈیٹا کی بہتر شیئرنگ کی تجاویز پر بھی روشنی ڈالی۔اجلاس میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان میں انشورنس کی رسائی اب بھی کم ہے جو مصنوعات میں تنوع اور رسک فنانسنگ میکانزم کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر ترقیاتی شراکت دار بشمول آئی ایم ایف آفات سے نمٹنے کے مالیاتی فریم ورک جیسے اقدامات میں تعاون کر رہے ہیں۔ فریقین نے پاکستان کے انشورنس سیکٹر کو مضبوط بنانے اور قدرتی آفات کے خلاف مالی تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل تعاون کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔








