اسلام آباد۔28فروری (اے پی پی):پاکستان کی 80 فیصد سے زائد زراعت کا انحصار انڈس بیسن سے ملنے والے آبپاشی کے نظام پر ہے۔ سندھ طاس معاہدہ نہ صرف جغرافیائی اور سیاسی لحاظ سے بنیادی اہمیت کا حامل ہے بلکہ یہ پاکستان کے زرعی شعبے کے لیے بھی ایک اہم لائف لائن ہے۔پاکستان کی 80 فیصد سے زیادہ کاشت کا انحصار دریائے سندھ سے حاصل ہونے والے پانی پر ہے، گندم، …
سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے زراعت کے شعبہ کی لائف لائن

مزید خبریں
اسلام آباد۔28فروری (اے پی پی):پاکستان کی 80 فیصد سے زائد زراعت کا انحصار انڈس بیسن سے ملنے والے آبپاشی کے نظام پر ہے۔ سندھ طاس معاہدہ نہ صرف جغرافیائی اور سیاسی لحاظ سے بنیادی اہمیت کا حامل ہے بلکہ یہ پاکستان کے زرعی شعبے کے لیے بھی ایک اہم لائف لائن ہے۔پاکستان کی 80 فیصد سے زیادہ کاشت کا انحصار دریائے سندھ سے حاصل ہونے والے پانی پر ہے، گندم، چاول، کپاس اور گنے جیسی اہم فصلیں پانی کی مسلسل اور بلا تعطل فراہمی پر انحصار کرتی ہیں۔پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی سے سندھ طاس معاہدہ پر دستخط ہوئے تھے، اور اسے دنیا میں پانی کی تقسیم کے سب سے اہم اور پائیدار معاہدوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
اپنی جغرافیائی سیاسی اہمیت سے ہٹ کر، یہ پاکستان کی زرعی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔یہ معاہدہ دریائے سندھ اور اس کی پانچ بڑی معاون ندیوں کا احاطہ کرتا ہے: راوی، بیاس، ستلج، جہلم اور چناب — جو دنیا کے سب سے بڑے آبپاشی کے نیٹ ورکس میں سے ایک ہیں۔ پاکستان کی زرعی معیشت بالخصوص سندھ اور پنجاب کے ساتھ ساتھ دیگر صوبوں کا بھی بنیادی طور پر انہی پانیوں پر انحصار ہے۔اس معاہدے کے تحت تین مغربی دریا سندھ، جہلم اور چناب پاکستان کو جبکہ تین مشرقی دریا راوی، بیاس اور ستلج بھارت کو دے دیے گئے۔ ہندوستان کو مغربی دریاؤں پر محدود استعمال کے حقوق دیے گئے تھے۔
دونوں ریاستوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے اس معاہدے نے آبپاشی کے بنیادی ڈھانچے اور دہائیوں پر محیط زرعی منصوبہ بندی کی تشکیل کی۔ پاکستان کا زرعی شعبہ قومی معیشت میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے اور یہ معاہدہ پاکستان کے دریائی پانی تک رسائی کی ضمانت دیتا ہے جو اس کے وسیع نہری آبپاشی کے نیٹ ورک کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ اسے بڑے پیمانے پر سب سے اہم بین الاقوامی آبی معاہدوں میں شمار کیا جاتا ہے۔معاہدے کے تحت مغربی دریاؤں تک یقینی رسائی کے بغیر، پاکستان کو غذائی تحفظ کے شدید چیلنجز اور دیہی معیشت میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بھارت نے معاہدے کے تحت پنجاب، ہریانہ اور راجستھان جیسی ریاستوں میں آبپاشی اور پن بجلی کے منصوبوں کو بڑھایا اور مشرقی دریاؤں پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔ اگرچہ بھارت کو مغربی دریاؤں کے محدود زرعی استعمال کی اجازت ہے لیکن اس نے مبینہ طور پر پاکستان کی طرف پانی کے بہاو کو متاثر کرنے میں رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔سبز انقلاب کے دور میں، معاہدے کے ذریعے فراہم کردہ اعتبار نے پاکستان میں اعلیٰ پیداوار والے بیجوں کی اقسام کو اپنانے، کھاد کے استعمال میں اضافہ اور زیادہ میکانائزیشن کو قابل بنایا، جس کے نتیجے میں خوراک کی پیداوار زیادہ مستحکم ہوئی۔خدشہ ہے کہ معاہدے سے متعلق غیر منصفانہ، غیر قانونی اور سخت اقدامات خاص طور پر موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں پاکستان میں زرعی چیلنجز کو بڑھا سکتے ہیں ۔
برف پگھلنے کی رفتار میں اضافہ اور بے ترتیب مون سون سے پانی کی طویل مدتی دستیابی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ پانی کے بہاؤ میں کمی سے زیر زمین پانی کی سطح بھی کم ہو سکتی ہے۔ مزید برآں پاکستانی ڈیموں میں تلچھٹ کے جمع ہونے سے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کم ہو سکتہ ہے جس سے آبپاشی کے نظام الاوقات اور سیلاب پر قابو پانا متاثر ہو نے کا بھی خدشہ ہے۔
تاریخی طور پر سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان جنگوں اور سفارتی بحرانوں کے دوران بھی فعال رہا تاہم، موجودہ بھارتی حکومت کے حالیہ متنازعہ اقدامات سے جوہری ہتھیاروں سے لیس دو ریاستوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور پاکستان کے زرعی شعبے میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے بارے میں تشویش پائی جاتی ہے۔معاہدے کی دفعات کے تحت کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر اس میں ترمیم یا ختم نہیں کر سکتا۔ تنازعات کی صورت میں، غیر جانبدار ماہرین اور ثالثی پینل پانی کی فراہمی میں رکاوٹوں سے متعلق مسائل کو حل کرنے کے لیے نامزد کیے گئے ہیں۔سندھ طاس معاہدہ محض ایک سفارتی دستاویز نہیں ہے۔
یہ زرعی پائیداری اور دیہی معاش کے لیے ضروری فریم ورک بھی ہے۔ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے سے عالمی غذائی تحفظ کے اہداف کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ چھ دہائیوں سے زیادہ عرصے سے اس معاہدہ نے جنوبی ایشیا میں زرعی استحکام کی بنیاد کے طور پر کام کیا ہے، جس نے خوراک کی حفاظت، دیہی روزگار اور لاکھوں لوگوں کے لیے ذریعہ معاش کو فروغ دیا ہے۔








