ٹیپو ٹرکاں والا قتل کیس دہشت گردی نہیں،ذاتی دشمنی کا شاخسانہ تھا ، سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ

اسلام آباد۔ 28 فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ نے ٹیپو ٹرکاں والا قتل کیس کے مرکزی مجرم خرم اعجاز کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اس پر عائد دہشت گردی کی دفعات ختم کر دیں جبکہ شریک ملزم سید احسن شاہ کی بریت کے خلاف اپیل بھی مسترد کر دی۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ …

اسلام آباد۔ 28 فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ نے ٹیپو ٹرکاں والا قتل کیس کے مرکزی مجرم خرم اعجاز کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اس پر عائد دہشت گردی کی دفعات ختم کر دیں جبکہ شریک ملزم سید احسن شاہ کی بریت کے خلاف اپیل بھی مسترد کر دی۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق تین رکنی بینچ نے جسٹس اشتیاق ابراہیم کی سربراہی میں 9 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیاجس میں قرار دیا گیا کہ یہ واقعہ دہشت گردی نہیں بلکہ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ تھا۔عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ محض کسی عوامی مقام پر قتل کا وقوع پذیر ہونا اسے دہشت گردی کے زمرے میں نہیں لاتا۔

فیصلہ میں کہا گیا کہ استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ ملزم کا مقصد حکومت یا عوام میں خوف و ہراس پھیلانا تھا۔عدالت نے واضح کیا کہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کا اطلاق اسی صورت ممکن ہے جب جرم کا مقصد معاشرے میں خوف پھیلانا یا ریاست کو مرعوب کرنا ہو جو اس مقدمے میں ثابت نہیں ہوا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ استغاثہ ٹیپو ٹرکاں والا کے قتل کا ٹھوس محرک (موٹیو) ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ قانون کے مطابق اگر قتل کی وجہ ثابت نہ ہو تو سزائے موت برقرار نہیں رکھی جا سکتی اسی بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا فیصلہ درست قرار دیا گیا۔

عدالت نے شریک ملزم سید احسن شاہ کی بریت کے خلاف اپیل بھی مسترد کر دی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ احسن شاہ کا نام ایف آئی آر میں شامل نہیں تھا اور اس کے خلاف شواہد بھی ناکافی تھے، لہٰذا شک کا فائدہ دے کر بریت کا فیصلہ درست ہے۔مقدمے کی تفصیلات کے مطابق 20 جنوری 2010 کی شام علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے پارکنگ ایریا میں دبئی سے واپسی پر عارف امیر عرف ٹیپو ٹرکاں والا کو گاڑی میں سوار ہوتے وقت اندھا دھند فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔مرکزی ملزم خرم اعجاز کو موقع پر موجود مقتول کے ساتھیوں نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا تھا۔

بعد ازاں ملزم نے مؤقف اختیار کیا کہ مقتول اس کے بھائی کے قاتلوں کی پشت پناہی کر رہا تھا۔مئی 2011 میں انسدادِ دہشت گردی عدالت نے خرم اعجاز کو دو مرتبہ سزائے موت سنائی تھی۔ بعد ازاں اکتوبر 2019 میں لاہور ہائیکورٹ نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا جبکہ شریک ملزم احسن شاہ کو بری کر دیا تھا۔سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے دہشت گردی کی دفعات ختم کر دیں اور سزائے موت میں اضافے کی درخواست بھی مسترد کر دی۔