اسلام آباد۔1مارچ (اے پی پی):دنیا بھر میں جنگلی حیات کی آبادی میں 73 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے ۔ جنگلی حیات میں کمی کے بنیادی اسباب میں جنگلی حیات کی رہائش گاہوں کا خاتمہ ، استحصال، موسمیاتی تبدیلی اور آلودگی وغیرہ شامل ہیں۔ ورلڈ وائلڈ لائف لونگ پلانیٹ رپورٹ2024 کے مطابق عالمی سطح پر جنگلی حیات کی آبادی میں 73 فیصد کی خطر ناک حد تک کمی واقع ہوئی …
دنیا بھر میں جنگلی حیات کی آبادی میں 73 فیصد تک کمی، ممالیہ جانوروں کی 66 ، پرندوں کی 48 ،رینگنے والے جانوروں کی 18 مختلف اقسام ناپید ہو چکی ہیں، ڈبلیو ڈبلیو ایف

مزید خبریں
اسلام آباد۔1مارچ (اے پی پی):دنیا بھر میں جنگلی حیات کی آبادی میں 73 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے ۔ جنگلی حیات میں کمی کے بنیادی اسباب میں جنگلی حیات کی رہائش گاہوں کا خاتمہ ، استحصال، موسمیاتی تبدیلی اور آلودگی وغیرہ شامل ہیں۔
ورلڈ وائلڈ لائف لونگ پلانیٹ رپورٹ2024 کے مطابق عالمی سطح پر جنگلی حیات کی آبادی میں 73 فیصد کی خطر ناک حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنگلی حیات کی آبادی میں کمی کے حوالے سے لاطینی امریکہ اور کیربیئن سرفہرست ہیں جہاں پر 95 فیصد تک جنگلی حیات کم ہوئی ہے جبکہ افریقہ میں جنگلی حیات کی تعداد میں 76 فیصد کی کمی اور ایشیا ریجن میں 60 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
اسی طرح شمالی امریکہ ریجن میں جنگلی حیات کی آبادی میں 39 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ یورپ اور وسطی ایشیائی ممالک میں یہ شرح 35 فیصد ہے۔ رپورٹ کے مطابق ماحولیاتی نظام کے متاثر ہونے کے نتیجہ میں میٹھے پانی کے مختلف جانوروں کی آبادی میں 85 فیصد ، زمینی جانوروں میں 69 فیصد اور سمندری جانوروں کی آبادی میں 56 فیصد کی خطر ناک کمی واقع ہوئی ہے۔ عالمی ادارہ نے خبردار کیا ہے کہ دنیا میں تقریباً 30 فیصد ممالیہ جانور معدومی کے خطرات سے دوچار ہیں جبکہ نقل مکانی کرنے والے جانوروں کی نسلوں میں 44 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔
ورلڈ وائلڈ لائف (ڈبلیو ڈبلیو ایف) نے عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگلی حیات کی آبادی میں کمی کی بنیادی وجوہات میں رہائش گاہ کا خاتمہ سرفہرست ہے کیونکہ زیر کاشت رقبہ میں اضافہ کا تناسب جنگلی حیات کی آبادی میں کمی کا سب سے بڑا سبب ہے۔ اسی طرح جنگلی حیات کی آبادی میں کمی کا ایک اور بنیادی سبب وائلڈ لائف سے متعلق جرائم بھی ہیں۔
ماحولیات اور جنگلی حیات کے معروف محقق ارشاد احمد ارشد نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ جنگلات کی کٹائی زرعی اراضی میں اضافہ ، چراہ گاہوں کی منصوبہ بندی کے بغیر وسعت ، صنعت اور شہری آبادی میں اضافہ ، جنگلات کی آگ اور عالمی درجہ حرارت میں ہونے والا اضافہ جنگلی حیات میں کمی کا سبب بن رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں دودھ پلانے والے جانوروں کی 66 جبکہ پرندوں کی 48 اور رینگنے والے جانوروں کی 18 مختلف اقسام ناپید ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگلی حیات کی آبادی میں ہونے والی خطرناک حد کی کمی سے ماحولیاتی تنوع متاثر ہونے کا خدشہ ہے جس کے تدارک کےلئے جامع حکمت عملی کے تحت عالمی برادری کے مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔








