کامسٹیک اور عالمی جوہری توانائی ادار ہ کا صحت اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں تعاون کے فروغ پر اتفاق

اسلام آباد۔1مارچ (اے پی پی):اسلامی تعاون تنظیم کی سائنسی و تکنیکی کمیٹی (کامسٹیک) اور اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے درمیان صحت اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں آئی اے ای اے کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں انہوں نے اہم ملاقاتیں …

اسلام آباد۔1مارچ (اے پی پی):اسلامی تعاون تنظیم کی سائنسی و تکنیکی کمیٹی (کامسٹیک) اور اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے درمیان صحت اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں آئی اے ای اے کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں انہوں نے اہم ملاقاتیں کیں۔

کامسٹیک کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے جوہری توانائی ایجنسی کے شعبہ نیوکلیئر سائنسز و ایپلی کیشنز کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل نجت مختار اور ڈیپارٹمنٹ پروگرام کوآرڈینیٹر ژاں پیئر کیول سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں آسٹریلیا میں پاکستان کے سفیر محمد کامران اختر اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ٹیکنیکل لیڈ ڈاکٹر ریاض بھی شریک تھے۔

اسلامی تعاون تنظیم اور آئی اے ای اے کے درمیان پہلے سے موجود مفاہمتی یادداشت کے تحت اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ کامسٹیک اور آئی اے ای اے افریقی ممالک سینیگال، نائیجیریا اور یوگنڈا میں مشترکہ منصوبوں پر کام کریں گے۔تعاون کے دو اہم شعبے طے کیے گئے ہیں۔

پہلے مرحلے میں نیوکلیئر میڈیسن کے ذریعے ریڈی ایشن تھراپی اور تشخیصی سہولیات کو بہتر بنایا جائے گا، جس کے لیے پاکستان کے معروف ادارے نوری کی مہارت سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔دوسرے مرحلے میں زرعی اجناس کو برداشت کے بعد ہونے والے نقصانات کم کرنے کے لیے نیوکلیئر ریڈی ایشن ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی۔

اس مقصد کے لیے پاکستانی ادارے تکنیکی معاونت فراہم کریں گے تاکہ متعلقہ افریقی ممالک میں غذائی تحفظ کو بہتر بنایا جا سکے۔ملاقات کے دوران صحت اور فوڈ سکیورٹی کے شعبوں میں مہارت کے تبادلے پر بھی زور دیا گیا۔ اس منصوبے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اسلامی ترقیاتی بینک اور اسلامک سالیڈیریٹی فنڈ کو شامل کرنے کی تجویز بھی دی گئی۔