پاکستان میں ذہنی صحت: اکثر نظر انداز کر دیا جانے والا بحران

فاطمہ احمد اسلام آباد۔2مارچ (اے پی پی) پاکستان میں ذہنی صحت ایک ایسا بحران جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور اس طرح اس سب سے بڑے دکھ کو کوئی نام بھی نہیں دیا جاتا۔ مثلاًامتحان کی تیاری کرنے والا طالب علم رات بھر میں محض دو گھنٹے سوتا ہے اور اسے نظم و ضبط کا نام دیتا ہے، ایک ماں خود سے وابستہ توقعات پر پورا اترنے …

فاطمہ احمد

اسلام آباد۔2مارچ (اے پی پی) پاکستان میں ذہنی صحت ایک ایسا بحران جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور اس طرح اس سب سے بڑے دکھ کو کوئی نام بھی نہیں دیا جاتا۔ مثلاًامتحان کی تیاری کرنے والا طالب علم رات بھر میں محض دو گھنٹے سوتا ہے اور اسے نظم و ضبط کا نام دیتا ہے، ایک ماں خود سے وابستہ توقعات پر پورا اترنے کے لیے تھکن کی پروا نہیں کرتی،ایک ملازم کی طرف سے شکر گزاری کے اظہار کے پیچھے اس کی ڈپریشن چھپی ہوتی ہے،

ایک بیمار شخص ڈاکٹر سے علاج کے بجائے معجزات پر انحصار کرتا ہے،وہ کون سی چیز ہے جس کا کوئی اعتراف کرنے کو تیار نہیں ،وہ کون سی چیز ہے جس کو سامنے لانے کی ضرورت ہے لیکن ہم نے اس سے راہ فرار اختیار کر رکھی ہے؟کارل جنگ کا قول ہے، لوگ اپنی ذات کا سامنا کرنے سے بچنے کے لئے کچھ بھی کرتے ہیں ،چاہے یہ کتنا ہی مضحکہ خیز کیوں نہ ہو ۔

جسمانی صحت کی طرح ہی اہم ہونے کے باوجود ذہنی صحت ایک سنگین لیکن اکثر نظر انداز کر دیا جانے والا مسئلہ ہے ۔عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، "صحت محض بیماری یا کمزوری کی عدم موجودگی نہیں ، مکمل جسمانی، ذہنی اور سماجی بہبود کی حالت ہے ۔ اگرچہ جسمانی صحت کی حالتوں کے علاج میں قابل ذکر پیش رفت ہوئی ہے لیکن ذہنی صحت کی دیکھ بھال کے حوالے سے ہمیں اہم چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ نہ صرف ایک طبی مسئلہ ہے، بلکہ ایک ایسا رجحان ہے جس کی تشکیل میں معاشرے، معیشت، مذہب، صنفی کردار، ناکافی ادارہ جاتی ڈھانچہ اور ذاتی عقائد بیک وقت کام کرتے ہیں۔

پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے جس میں لوگوں کو سماجی اقتصادی وسائل اور ذہنی صحت کی دیکھ بھال تک محدود رسائی حاصل ہے۔ بالغ آبادی میں 10سے16فیصد لوگ بے چینی اور ڈپریشن کا شکار ہیں جن کی علامات ہلکی سے لے کر شدیدتک ہوتی ہیں۔ آبادی کا ایک سے 2فیصد شدید ذہنی بیماری جیسے شیزوفرینیا اور بائی پولر ڈس آرڈر کا شکار ہے جبکہ نوعمروں اور بچوں کی ذہنی صحت کے عارضے بھی پائے جاتے ہیں۔

تقریباً 40 لاکھ افراد غیر قانونی منشیات استعمال کرتے ہیں جن میں سے 70 فیصد مرد ہیں۔ استعمال ہونے والی عام غیر قانونی منشیات میں ہیروئن، چرس، آئس اور بینزوڈیازپائنز شامل ہیں۔ پاکستان کو ذہنی صحت کے شعبہ میں معالجین کی شدید کمی کا سامنا ہے، بعض اندازوں کے مطابق 240 ملین سے زیادہ آبادی کے لیے صرف 400-564 مستند ماہرین نفسیات موجود ہیں جس کا مطلب ہے دس لاکھ شہریوں کے لئے 2-3 ماہرین نفسیات اور جو تجویز کردہ معیار سے بہت کم ہے۔

اگرچہ ذہنی صحت کے دیگر ماہرین بھی ہیں، جیسے کہ تقریباً 3,000 طبی ماہر ین نفسیات لیکن ماہرین کی مجموعی تعداد آبادی کے حجم کے لحاظ سے انتہائی کم ہے۔ ملک میں نفسیاتی امراض کے کیسز کے باوجود، سماجی بدنامی ، شعورکی کمی، خواندگی کی کم شرح، روحانی علاج کرنےعاملوں جیسے متبادل ذرائع سے مدد کی تلاش، ذہنی صحت کے خصوصی یونٹس اور فراہم کنندگان کی کمی، ذہنی صحت کی دیکھ بھال کے لیے مختص کم بجٹ، اور محدود مالی وسائل کی وجہ سے مدد کی تلاش بہت کم ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ دماغی صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو نہ صرف توجہ دینے کرنے بلکہ سمجھنے اور اس کی تشکیل نو کی اشد ضرورت ہے۔

"لوگ کیا کہیں گے” کی روایتی ذہنیت دماغی صحت کو سماجی بدنامی سے جوڑ دیتی ہے۔ ذہنی امراض کو علاج کی شرط کے بجائے کمزوری کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ خاندان بدنامی کے خوف سے معاشرے سے مسائل چھپاتے ہیں۔ ذہنی بیماری سے لڑنے والے مریض کی فلاح و بہبود پر سماجی روایات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ لوگ خود بیماری سے زیادہ سماج سے ڈرتے ہیں۔

بالآخر، جذباتی مسائل کا سامنا کرنے میں تنہا رہ جاتے ہیں ۔ بہت سے گھرانوں میں کسی دکھ یا تکلیف کے اظہار کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور کمزوری کا مذاق اڑایا جاتا ہے جبکہ برداشت کی تعریف کی جاتی ہے۔ ایک شخص کو ہمت و دلیری کا ماسک پہننے پر مجبور کیا جاتا ہے جو کسی مسئلے کا حل نہیں ۔ اس کے نتیجے میں لوگ اپنے درد کو نام دینا سیکھنے اور اس سے نجات حاصل کرنے کے بجائے کچھ کر دکھانے کو طاقت سمجھنے لگتے ہیں، جس کے نتیجے میں ذہنی صحت کے طویل مدتی مسائل جنم لیتے ہیں۔

دماغی صحت کے حوالے سے بات چیت اعتراف کے بجائےگریز سے شروع ہوتی ہے۔ جیسا کہ وکٹر فرینک کہتا ہے ،’’غیر معمولی صورت حال پر ایک غیر معمولی ردعمل عام رویہ ہے۔‘‘ شاید سماجی سطح پر اسے سمجھ کر بدنامی کے خوف کو کم کرنے اور انفرادی مصائب کو تسلیم کرنے کا ایک طریقہ ہے۔

بقا پر توجہ مرکوز کرنے والے افراد ذہنی صحت کو ترجیح نہیں دے سکتے۔ پاکستان کا تعلق کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک (ایل آئی ایم سیز)سے ہے۔ ذہنی صحت کی دیکھ بھال نہ صرف ایک نفسیاتی جدوجہد بلکہ یہ معاشی استحقاق بھی ہے۔ اوسطاً خاندان ایک کمانے والے رکن پر انحصار کرتے ہیں۔ ملک میں مہنگائی عام آدمی کے لیے ذہنی صحت کی دیکھ بھال تک رسائی کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتی۔ جب بنیادی ضروریات غیر مستحکم اور دسترس سے باہر ہوں تو جذباتی صحت ثانوی ترجیح بن جاتی ہے۔

اگرچہ پاکستان میں شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں عوامی ذہنی صحت کی دیکھ بھال کی محدود خدمات موجود ہیں لیکن ان کے معیار میں فرق ہے۔ پرائیویٹ ہیلتھ کیئر کوریج زیادہ تر شہری آبادیوں تک محدود ہے جو مزید عدم مساوات کو جنم دیتی ہے۔حکومتیں عموماً بڑے شہری ہسپتالوں پر اخراجات کرتی ہیں جس سے بنیاد ی اداروں میں ذہنی صحت کی خدمات کی سہولیات کم اور نسبتاًغیر ترقی یافتہ ہوتی ہیں۔ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا دماغی صحت کے لیے بجٹ 9.31 ڈالر فی شخص سالانہ ہے جو 60 ڈالر فی شخص سالانہ کی بین الاقوامی سفارش سے بہت کم ہے۔

پاکستان میں مذہبی عقائد انفرادی اور اجتماعی دونوں ذہنی بیماری اور صحت کی تشریح میں بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ ذہنی صحت کی سمجھ اور انتظام کو تشکیل دیتے ہیں، کبھی سکون فراہم اور دوسری بار غلط تبلیغ کے ذریعے غلط فہمی برقرار رکھتے ہیں۔ بہت سے لوگ ذہنی بیماری کو ایک امتحان اور گناہوں کی سزا کے طور پر دیکھتے ہیں اور اکثر اس کا تعلق بدروحوں کے اثرات یا مافوق الفطرت واقعے سے ہوتا ہے، لوگ اس کی بنیادی وجہ تسلیم کرنے سے پہلے ہی مذہبی علاج تلاش کرتے ہیں۔

اعتقاد کا نظام بعض اوقات علامات کو غلط قرار د یتا ہے ، مثال کے طور پر ڈپریشن کو سستی اور ایمان کی کمی، بے چینی کو ضرورت سے زیادہ سوچنے اور دعائوں کے قبول نہ ہونے کے طور پر دیکھا جا تا ہے، خاندان اور کمیونٹیز ان تشریحات کو تقویت دیتے ہیں جس کے نتیجے میں طبی مدد کے حصول میں تاخیر ہوتی ہے اور خود کو قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے۔کسی کے ذاتی عقائد جیسے معجزات پر مکمل انحصار کرنا یا اس سے بھی زیادہ دوا کی بجائے روحانی علاج اور ٹوٹکے مریض اور دیکھ بھال کرنے والوں (خاندان) دونوں کے لیے جزوی بہتری، غلط تشخیص اور طویل تکالیف کا باعث بن سکتا ہے۔

جب حضرت ایوبؑ کو شدید بیماری اور بے پناہ نقصان کی آزمائش سے گزارا گیا تو انہوں نے صبر اور بھروسے کا دامن نہیں چھوڑا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک شفا بخش چشمے کی طرف رہنمائی فرمائی اور جب انہوں نے اس پر عمل کیا تو وہ صحت یاب ہو گئے۔ اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ پر بھروسا کرنے کا مطلب علاج کے ذرائع کو نظر انداز کرنا نہیں ہے۔ ایمان اور کوشش دونوں اہم ہیں۔ ہم اللہ پر توکل کرتے ہیں اور ساتھ ہی ان اسباب کو اختیار کرتے ہیں جو وہ ہمیں فراہم کرتا ہے۔

اگر دین کو درست طریقے سے اپنایا جائے تو یہ روحانی شفا، معاشرتی تعاون، استقامت اور ایمان میں مضبوطی فراہم کرتا ہے۔ عبادت، دعا اور مراقبہ کے ذریعے مذہب مثبت ذہنی اثرات پیدا کرتا ہے۔ اگر ان پہلوؤں کو سمجھ کر اپنایا جائے تو ذہنی صحت کے نظام کو مذہبی سطح پر بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

روایتی صنفی اقدار ہمارے معاشرے میں ذہنی صحت کے بارے میں تصورات کو نمایاں طور پر متاثر کرتی ہیں۔ مردوں پر عموماً مضبوط دکھائی دینے کا دباؤ ہوتا ہے۔ ثقافتی نظریات مردانگی کو سختی اور طاقت سے جوڑتے ہیں، جس کی وجہ سے مرد حضرات ضرورت کے باوجود نفسیاتی مدد لینے سے گریز کرتے ہیں۔ اگر مرد اداسی یا کمزوری کا اظہار کریں تو انہیں کمزور سمجھا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ اپنے جذبات کو دباتے ہیں، غصے کا زیادہ اظہار کرتے ہیں اور ذہنی دباؤ کا مناسب علاج نہیں کروا پاتے۔

تحقیقی مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ صنفی عدم مساوات خواتین کو نفسیاتی طور پر زیادہ متاثر کرتی ہے۔ مردوں کے مقابلے میں خواتین میں ڈپریشن، اضطراب اور دیگر اندرونی امراض کی شرح زیادہ پائی جاتی ہے۔ اجرتوں میں فرق، امتیازی سلوک اور سماجی ناانصافی جیسی وجوہات کی بنا پر خواتین ذہنی بیماریوں کا تقریباً دوگنا شکار ہوتی ہیں۔

اگرچہ خواتین میں نفسیاتی مسائل زیادہ پائے جاتے ہیں، مردوں میں منشیات کے استعمال اور معاشرت مخالف رویوں کی شرح زیادہ دیکھی جاتی ہے، جس کی ایک وجہ مختلف سماجی تربیت اور مدد حاصل کرنے کے طریقے ہیں۔ ایک ایسا مستقبل جو ذہنی صحت کو ترجیح دیتا ہو، اسے سخت صنفی کرداروں سے آگے بڑھنا ہوگا۔ ہمیں بطور معاشرہ ایسے ماحول پیدا کرنے چاہئیں جہاں ہر فرد کو برابر ی کی بنیاد پر جدوجہد اور علاج کی اجازت ہو۔

پاکستان میں تعلیمی شعبہ نہ صرف طلبا کی علمی ترقی کا مرکز ہے بلکہ ان کی ذہنی اور جذباتی نشوونما پر بھی گہرا اثر ڈال رہا ہے۔ تاہم زیادہ تر تعلیمی ادارے علمی کارکردگی کو ذہنی صحت پر ترجیح دیتے ہیں، جس کی وجہ سے طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ابتدائی عمر سے ہی طلبا پر طویل مطالعے، ناکامی کے خوف اور خاندان کی بلند توقعات کا دباؤ رہتا ہے۔

اعلیٰ سطح کے امتحانات، بورڈ کے ٹیسٹ اور سخت مقابلہ جاتی داخلے طلبا میں مسلسل تناؤ، بےچینی اور بعض اوقات ذہنی تھکن پیدا کرتے ہیں۔ بیشتر تعلیمی اداروں میں ذہنی صحت کی سہولیات موجود نہیں ہیں، ماہرین نفسیات نایاب ہیں اور اساتذہ کو نفسیاتی دباؤ پہچاننے کی تربیت بھی نہیں دی گئی ۔2019 میں ایک پانچ سالہ منصوبہ شروع کیا گیا جس کا مقصد اساتذہ کو طلبا کے ذہنی مسائل کو پہچاننے اور ان کے انتظام کی تربیت دینا تھا۔

جس کے مطابق یونیورسٹی کے طلبا بھی شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں 55 فیصد طلبا ذہنی صحت کی سہولیات سے واقفیت رکھتے ہیں، لیکن سماجی بدنامی کے خوف اور پیشہ ورانہ مشاورت کی کمی کے باعث وہ مدد حاصل کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں ذہنی صحت ایک نظامی مسئلہ ہے جو آنے والی نسل کی علمی اور جذباتی نشوونما کو متاثر کرتا ہے۔ ماہرین نفسیات کی تعیناتی، نصاب میں نفسیاتی تعلیم شامل کرنا،ذہنی صحت کے حوالےسے اساتذہ کی تربیت اور معاون ماحول کو فروغ دینا طلباء کی ذہنی صحت بہتر بنانے کے مؤثر اقدامات ہیں۔

پاکستان میں ذہنی صحت سماجی توقعات، معاشی حقائق، صنفی اصولوں اور ادارہ جاتی فرق سے تشکیل پاتی ہے۔ ہر زاویہ مختلف چیلنجز ظاہر کرتا ہے، لیکن مجموعی طور پر یہ ایک ایسی سماج کی تصویر پیش کرتا ہے جو ذہنی فلاح و بہبود کو دیکھنے، سمجھنے اور سپورٹ کرنے میں ناکام ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شعور اجاگر کرنا، مناسب اور قابل رسائی خدمات فراہم کرنا اور ثقافتی رویوں میں تبدیلی لانا ضروری ہے تاکہ ذہنی صحت کو جسمانی صحت کے برابر اہمیت دی جا سکے۔ اس طرح پاکستان ایک ایسے مستقبل کی جانب بڑھ سکتا ہے جہاں ذہنی مدد حاصل کرنا کمزوری نہ ہو بلکہ ایک اجتماعی ذمہ داری اور ترقی کا ذریعہ ہے۔

جیمز بالڈوین کا قول ہے ،’’ہر چیز جس کا سامنا کیا جاتا ہے، اس میں تبدیلی ممکن نہیں، لیکن جب تک کہ اس کا سامنا نہ کیا جائے، کچھ بھی نہیں بدلے گا ‘‘۔

مزید خبریں