وفاقی حکومت کا مصنوعی ذہانت کیلئے اعلان کردہ فنڈ ڈیجیٹل معیشت کے قیام کیلئے اہم اور بروقت اقدام ہے، ڈاکٹر ندیم جاوید

اسلام آباد۔2مارچ (اے پی پی):وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس ڈاکٹر ندیم جاوید نے وفاقی حکومت کی جانب سے حال ہی میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے لئے اعلان کردہ ایک بلین ڈالر کے فنڈ کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ڈیجیٹل معیشت کے قیام اور نوجوانوں کے لئے مؤثر اور بامقصد معاشی مواقع کی فراہمی کی جانب ایک اہم اور بروقت اقدام قرار دیا ہے۔ان خیالات …

اسلام آباد۔2مارچ (اے پی پی):وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس ڈاکٹر ندیم جاوید نے وفاقی حکومت کی جانب سے حال ہی میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے لئے اعلان کردہ ایک بلین ڈالر کے فنڈ کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ڈیجیٹل معیشت کے قیام اور نوجوانوں کے لئے مؤثر اور بامقصد معاشی مواقع کی فراہمی کی جانب ایک اہم اور بروقت اقدام قرار دیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان گورننس فورم2026 کے موقع پر ’’اے پی پی‘‘ سے گفتگو کر تے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں مضبوط اے آئی ایکو سسٹم کے قیام کا تصور پیش کیا گیا ہے جس میں وفاق کے زیر انتظام تمام سکولوں میں اے آئی نصاب کا اجراء، 2030 تک ایک ہزار مکمل فنڈڈ پی ایچ ڈی سکالرشپس کی فراہمی اور ایک قومی پروگرام کے ذریعے دس لاکھ نوجوانوں کو اے آئی مہارتوں کی تربیت دینے کے لئے ایک ملک گیر پروگرام شروع کرنا ہے۔ ڈاکٹر ندیم جاوید نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا 63 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے جو ایک اہم قومی حقیقت ہے، اگر اس وسیع انسانی سرمایہ کو مؤثرحکمت عملی کے تحت بروئے کار نہ لایا گیا تو یہ مستقبل میں ایک سنجیدہ چیلنج کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو روزگار کے مواقعوں کی فراہمی کیلئے پائیدار اقتصادی ترقی ناگزیر ہے،اگر معاشی ترقی ہوگی تو روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور لوگ نظام میں شامل ہوں گے، روزگار کے ساتھ ساتھ کاروباری سرگرمیوں کا فروغ بھی یکساں اہمیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اے آئی فنڈ نوجوانوں کی قیادت میں سٹارٹ اپس، ایس ایم ایز اور مائیکرو انٹر پرائزز کے لئے مواقع پیدا کر سکتا ہے، امید ہے اس اقدام سے متعدد نئے مواقع سامنے آئیں گے جہاں چھوٹی کمپنیاں اور مائیکرو انٹرپرائزز وجود میں آ کر معاشی سرگرمیوں میں کردار ادا کریں گی۔گورننس کے وسیع تر تناظر کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر ندیم جاوید نے کہا کہ ترقیاتی اقدامات کو الگ تھلگ دیکھنے کی بجائے ایک جامع فریم ورک کے تحت سمجھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق گورننس ایک وسیع فریم ورک ہے جو بہتر معاش،روزگار کے مواقع اور سرمایہ کاری کے بہاؤ جیسے نتائج کا تعین کرتا ہے۔ ڈاکٹر ندیم جاوید نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک 2.0) کے ارتقائی دوسرے مرحلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے باہمی مفادات کے تحت نئی پیش رفت کو شکل دی جا رہی ہے جو ’’اڑان پاکستان‘‘ کے تحت قومی اصلاحاتی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا اصلاحاتی ایجنڈا برآمدات،توانائی کی قابل برداشت قیمت، کارکردگی اور ماحولیاتی پائیداری جیسے بنیادی محرکات پر مرکوز ہے جو سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کے لئے نہایت اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس پہلے ہی ترقی کے اہم بنیادی عناصر موجود ہیں، جن میں بڑی افرادی قوت، گھریلو منڈی اور ارتقا پذیر صنعتی بنیاد شامل ہیں جو مؤثر حکمت عملی کے ساتھ استعمال ہونے کی صورت میں مجموعی قومی پیداوار میں نمایاں اضافہ کر سکتے ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پالیسی اصلاحات سے بڑھ کر سب سے بڑا چیلنج طرزِ فکر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سخت قواعد و ضوابط اور ایس او پیز بنائے جا سکتے ہیں لیکن ذہنی ہم آہنگی، دیانت داری اور کام کی اخلاقیات کے بغیر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کئے جا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ بہتر طرز حکمرانی، نوجوانوں کی صلاحیتوں کا مؤثر استعمال اور مثبت قومی سوچ اصلاحاتی اقدامات کو پائیدار اور جامع معاشی ترقی میں تبدیل کرنے کے لئے ناگزیر ہیں۔