قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس آج (منگل کو) ہوں گے، 153 نکات پر مشتمل ایجنڈا جاری

اسلام آباد۔3مارچ (اے پی پی):پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اہم اجلاس آج ( بروز منگل)پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوں گے جن کے لیے مجموعی طور پر 153 نکات پر مشتمل وسیع ایجنڈا جاری کیا گیا ہے ۔ قومی اسمبلی کا اجلاس سہ پہر 3:00 بجے سپیکر قومی اسمبلی کی زیرِ صدارت اور سینیٹ کا اجلاس صبح 11:30 بجے چیئرمین سینیٹ کی صدارت میں شروع ہوگا ۔قومی …

اسلام آباد۔3مارچ (اے پی پی):پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اہم اجلاس آج ( بروز منگل)پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوں گے جن کے لیے مجموعی طور پر 153 نکات پر مشتمل وسیع ایجنڈا جاری کیا گیا ہے ۔

قومی اسمبلی کا اجلاس سہ پہر 3:00 بجے سپیکر قومی اسمبلی کی زیرِ صدارت اور سینیٹ کا اجلاس صبح 11:30 بجے چیئرمین سینیٹ کی صدارت میں شروع ہوگا ۔قومی اسمبلی میں قانون سازی، عوامی مسائل اور پالیسی سازی سے متعلق اہم نکات زیرِ بحث آئیں گے،ان میں ملک میں ایک ملین سے زائد افراد کے ایچ پی وی اور ہیپاٹائٹس ڈیلیٹ وائرس ( ایچ ڈی وی)سے متاثر ہونے کے معاملے پر وزیر صحت کی توجہ مبذول کرائی جائے گی ۔

دستور میں ترمیم (آرٹیکل 24 اور 228)، جعلی کرنسی کی روک تھام کے لیے اتھارٹی کا قیام اور وفاقی نظامت تعلیم کے ملازمین کے انضمام سے متعلق بل متعارف کرائے جائیں گے ۔راول انٹرنیشنل یونیورسٹی، اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری چیریٹیز رجسٹریشن اور موٹر وہیکلز آرڈیننس میں ترامیم سمیت متعدد بلوں کی منظوری اور غور کی تحریکیں پیش ہوں گی ۔

ملک بھر میں نقصان دہ چربی دار تیل پر پابندی، خواتین کی فیصلہ سازی میں شرکت، سرکاری گھروں کی میرٹ پر الاٹمنٹ اور عمارتوں کے فائر سیفٹی آڈٹ کے حوالے سے قرار دادیں ایجنڈے کا حصہ ہیں ۔بجلی کی لوڈ شیڈنگ، حکومت کی معاشی پالیسی اور ٹیکسلا روٹ پر الیکٹرک بسوں کے شیڈول بارے بحث کی جائے گی ۔سینیٹ کے اجلاس میں قانون سازی اور قومی اہمیت کے معاملات پر توجہ دی جائے گی۔

وزیر داخلہ نادرا آرڈیننس 2000 میں مزید ترمیم کا بل پیش کریں گے ۔ الدانش یونیورسٹی اسلام آباد کے قیام کا بل بھی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا ۔ تعلیمی اداروں کے قیام، پی ایم ڈی سی ایکٹ میں ترمیم اور آئین کے آرٹیکل 62، 153 اور 228 میں ترامیم سے متعلق قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس ایوان میں پیش کی جائیں گی ۔

فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ترمیم)بل اور اسلام آباد انٹرنیشنل یونیورسٹی پاکستان بل متعارف کرانے کی تحریکیں پیش ہوں گی ۔ گیس سیکٹر کے 3.2 ٹریلین روپے کے گردشی قرضے اور عالمی سطح پر پاکستان کی سرمایہ کاری کی درجہ بندی (جی آئی آر آر آئی ) پر بحث،علاوہ ازیں قومی ہاکی ٹیم کے دورہ آسٹریلیا میں انتظامی مسائل پر توجہ بھی دلائی جائے گی ۔