اسلام آباد۔3مارچ (اے پی پی):نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان دل و جان سے ایران کے ساتھ کھڑا ہے ، ملک کے اندر اس معاملے کو غلط رنگ دینا مناسب نہیں،فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پاکستان مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔منگل کو سینیٹ اجلاس میں اظہارخیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 28 فروری کو پاکستان نے ایران …
پاکستان ایران کے ساتھ کھڑا ہے، مذاکرات کے ذریعے حل کی کوششیں جاری ہیں، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

مزید خبریں
اسلام آباد۔3مارچ (اے پی پی):نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان دل و جان سے ایران کے ساتھ کھڑا ہے ، ملک کے اندر اس معاملے کو غلط رنگ دینا مناسب نہیں،فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پاکستان مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔منگل کو سینیٹ اجلاس میں اظہارخیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 28 فروری کو پاکستان نے ایران پر حملے کی صورتحال پر پہلا باضابطہ ردعمل دیا جبکہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر وزیراعظم شہباز شریف نے یکم مارچ کو تعزیتی بیان جاری کیا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے ہر فورم پر یہ موقف اپنایا کہ مسئلہ بین الاقوامی قوانین اور مذاکرات کے ذریعے حل ہونا چاہیے۔اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ گزشتہ تین دنوں میں متعدد ممالک سے رابطے کیے گئے اور عمان کے وزیر خارجہ کے ساتھ بھی بات چیت ہوئی، جس میں امید ظاہر کی گئی کہ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ جون میں بھی ایران پر حملہ ہوا تھا اور اس وقت بھی پاکستان نے ترکیہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور یورپی یونین سمیت متعدد ممالک سے رابطے کیے تاکہ معاملہ سلجھایا جا سکے۔انہوں نے زور دیا کہ ایران پاکستان کا برادر اسلامی اور ہمسایہ ملک ہے اور پاکستان اپنی ذمہ داری پوری کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران نے خود واضح کر دیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا اور تمام مسائل کا حل بات چیت اور سفارتی ذرائع سے نکالا جائے گا۔ پاکستان کی ثالثی کی پیشکش پر ایران کا ردعمل مثبت رہا۔اسحاق ڈار نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے اور ایران کی جانب سے جواب میں خلیجی ممالک پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر پاکستان نے واضح پالیسی اختیار کی۔ پاکستان نے جوہری توانائی کے پرامن استعمال کے حق میں ایران کی حمایت کی اور دنیا میں واحد ملک ہونے کا اعزاز حاصل کیا جس نے ایران پر حملے کی کھلے عام مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ 12 سال بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اتفاق رائے سے قرارداد پاس ہوئی، جس میں ایران سے پابندیاں ہٹانے کا کہا گیا۔ پاکستان نے 28 فروری کو سکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلایا اور ایران پر حملے کی مذمت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت خطے میں استحکام برقرار رکھنے اور تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوششوں میں پوری طرح مصروف ہے۔








