اسلام آباد ۔ 3 اکتوبر (اے پی پی) وفاقی وزیر قانون و انصاف زاہد حامد اور وزیر مملکت آئی ٹی انوشہ رحمان نے کہا ہے کہ حکومت نے 2017ءکے انتخابی اصلاحات بل میں ختم نبوت کی شق میں کوئی تبدیلی نہیں کی ، اس حوالے سے سوچ بھی نہیں سکتے‘ اپوزیشن پوائنٹ سکورنگ کر رہی ہے‘ انتخابی اصلاحات کمیٹی میں شق 203 کے خاتمے کی تجویز اپوزیشن نے دی‘ اب …
وفاقی وزیر قانون و انصاف زاہد حامد اور وزیر مملکت آئی ٹی انوشہ رحمان کی میڈیا سے گفتگو
اسلام آباد ۔ 3 اکتوبر (اے پی پی) وفاقی وزیر قانون و انصاف زاہد حامد اور وزیر مملکت آئی ٹی انوشہ رحمان نے کہا ہے کہ حکومت نے 2017ءکے انتخابی اصلاحات بل میں ختم نبوت کی شق میں کوئی تبدیلی نہیں کی ، اس حوالے سے سوچ بھی نہیں سکتے‘ اپوزیشن پوائنٹ سکورنگ کر رہی ہے‘ انتخابی اصلاحات کمیٹی میں شق 203 کے خاتمے کی تجویز اپوزیشن نے دی‘ اب پانامہ فیصلے کے بعد انہیں خیال آیا کہ اس شق کا فائدہ نواز شریف کو نہ ہو جائے‘ انتخابی اصلاحات کی ذیلی کمیٹی نے متفقہ طور پر اس شق کو 17 نومبر 2014ءکو ختم کردیا تھا اس کمیٹی میں سب جماعتوں کی نمائندگی موجود تھی‘ پی ٹی آئی پر افسوس کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ منگل کو پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے زاہد حامد نے کہا کہ میں چاہ رہا تھا کہ گزشتہ روز اجلاس کے دوران جب یہ بل پاس ہوا اس پر موقف دیں لیکن اپوزیشن نے اپنا موقف بیان کردیا مگر ہمارے موقف دینے کی باری آئی تو احتجاج شروع کردیا۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ سن کر حیران ہوا کہ بل خاموشی سے پاس ہوگیا‘ کیا میں کوئی جادوگر تھا کہ میں نے خاموشی سے بل پاس کردیا۔









