بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے باعث اسٹرابیری کی فصل کے کسان پانی کی غیر یقینی صورتحال سے دوچار

خیبر پختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کےلیے پاکستان کی اسٹرابیری کی فصل کا مستقبل نہ صرف موسم اور منڈیوں پر بلکہ ان دریاؤں کی تقدیر پر بھی منحصر ہے جو ان کی زمین کو سیراب کرتے ہیں، سندھ طاس معاہدے کے مطابق بھارت سمیت عالمی برادری نے دریائے سندھ، چناب اور جہلم پر پاکستان کے آبی حق کو تسلیم کر رکھا ہے اور کوئی بھی ریاست یکطرفہ طور پر …

پشاور۔ 06 مارچ (اے پی پی):خیبر پختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کےلیے پاکستان کی اسٹرابیری کی فصل کا مستقبل نہ صرف موسم اور منڈیوں پر بلکہ ان دریاؤں کی تقدیر پر بھی منحصر ہے جو ان کی زمین کو سیراب کرتے ہیں، سندھ طاس معاہدے کے مطابق بھارت سمیت عالمی برادری نے دریائے سندھ، چناب اور جہلم پر پاکستان کے آبی حق کو تسلیم کر رکھا ہے اور کوئی بھی ریاست یکطرفہ طور پر اسے معطل یا التوا میں نہیں ڈال سکتی،دریائے سندھ میں پانی کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کی کمی خیبر پختونخوا اور پنجاب میں گندم، چاول، گنا اور اسٹرابیری و تربوز جیسے پھلوں سمیت موسمی فصلوں کو شدید متاثر کر سکتی ہے جس کا مطلب لاکھوں لوگوں کا بھوک اور افلاس کا شکارکرنا ہے کیونکہ پانی زراعت اور پھلوں کے باغات کی لائف لائن ہے اگر دریاؤں کا بہاؤ کم ہو گیا تو صوابی، سوات، مردان اور چارسدہ میں اسٹرابیری جیسی فصلیں تیزی سے ختم ہو جائیں گی ۔

اسٹرابیری کے ضلع صوابی کی تحصیل رزڑ کے 40 سالہ ترقی پسند کسان نصیر خان ایک کامیاب کسان ہیں جو اپنے دن کا آغازدیگر کسانوں کے پہنچنے سے بہت پہلے کھیتوں میں کام سے کرتے ہیں تاکہ کھیتوں سے دھوپ نکلنے سے قبل اسٹرابیری توڑ سکیں جو افطار کے دوران ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو جاتی ہے۔نمازِ فجر کی ادائیگی کے چند لمحوں بعد نصیر اور ان کے بھائی گاؤں شیخ جانہ میں اپنے پانچ ایکڑ پر محیط لہلہاتے اسٹرابیری کے کھیت میں ٹوکریاں ہاتھ میں لیے اس امید کے ساتھ داخل ہوتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ آمدن حاصل کر سکیں۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں دیگر پھلوں کی طرح اسٹرابیری کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہو جاتا ہے اور یہ نازک پھل خیبر پختونخوا میں افطار کے دسترخوانوں کا ایک قیمتی پھل بن گیا ہے۔

نصیر اپنی روایتی پگڑی درست کرتے ہوئے اور سرخ چمکدار پھل احتیاط سے ٹوکریوں میں رکھتے ہیں اور اپنے والد اور بھائیوں کے ساتھ دھوپ تیز ہونے سے پہلے اسٹرابیری توڑکر مارکیٹ لے جاتے ہیں ۔ ان جیسے کسانوں کے لیے موجودہ فصل کا سیزن موقع اور بے چینی دونوں لے کر آتا ہے۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے کچھ حصوں میں اسٹرابیری خاموشی سے کسانوں کے لیے سب سے زیادہ منافع بخش موسمی فصلوں میں سے ایک بن گئی ہے اسے اونچی کیاریوں پر کاشت کیا جاتا ہے۔ تقریباً فی ایکڑ رقبے پر 70,000 سے زائد پودے لگائے جاتے ہیں۔ یہ فصل خاص طور پر رمضان کے دوران متاثر کن منافع فراہم کرتی ہے۔ آج کل مقامی مارکیٹ میں اسٹرابیری تقریباً 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے اگرچہ اپریل تک پشاور میں سپلائی بڑھنے سے قیمتیں عام طور پر کم ہو کر 100 روپے فی کلو تک آ جاتی ہیں۔ نصیر کہتے ہیں کہ بہتر انتظام اور مناسب پانی کے ساتھ ایک ایکڑ 15,000 سے 17,000 کلوگرام تک پیداوار دے سکتا ہے۔

اگر سب کچھ ٹھیک رہے، خاص طور پر پانی مناسب ملتا رہے ، تو کسان فی ایکڑ 10 لاکھ روپے سے زیادہ کما سکتے ہیں۔ مستقبل کی فصل کے بارے میں نصیر کی خوش اُمیدی ان بڑھتے ہوئے خدشات کی زد میں ہے جو گزشتہ سال بھارت کی جانب سے تاریخی سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے غیر قانونی اعلان کے بعد پانی کی دستیابی کے حوالے سے پیدا ہوئے ہیں۔ صوابی کے نصیر خان تازہ اور خوشبودار اسٹرابیریوں سے ٹوکریاں بھرتے ہیں اور بعد میں فروخت کے لیے مارکیٹ منتقل کر دیتے ہیں۔ ان کےلیے یہ پھل محض ایک موسمی لذت سے کہیں بڑھ کر ہے بلکہ وقار کے ساتھ جینے کا ذریعہ ہے۔ وہ پودوں کی قطاروں کو دیکھتے ہوئے خاموشی سے کہتے ہیں کہ یہ فصل ہمارے خاندانوں کا پیٹ پالتی ہے، ہم صرف یہی امید کرتے ہیں کہ مغربی دریاؤں میں پانی بہتا رہے تاکہ ہمارے کھیت زندہ رہیں۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے ہزاروں کسانوں کےلیے پاکستان کی اسٹرابیری کی فصل کا مستقبل نہ صرف موسم اور منڈیوں پر بلکہ ان دریاؤں کی تقدیر پر بھی منحصر ہو سکتا ہے جو ان کی زمین کو سیراب کرتے ہیں۔

سندھ طاس معاہدے کے مطابق بھارت سمیت عالمی برادری نے دریائے سندھ، چناب اور جہلم پر پاکستان کے آبی حق کو تسلیم کیا تھا اور کوئی بھی ریاست یکطرفہ طور پر اسے معطل یا التوا میں نہیں ڈال سکتی۔ ضلع صوابی میں زراعت کا زیادہ تر انحصار تربیلہ ڈیم سے فراہم کردہ آبپاشی پر ہے جو دریائے سندھ پر تعمیر کیا گیا ہے۔ کسانوں کو ڈر ہے کہ دریائے سندھ میں پانی کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کی کمی خیبر پختونخوا اور پنجاب میں گندم، چاول، گنا اور اسٹرابیری و تربوز جیسے پھلوں سمیت موسمی فصلوں کو شدید متاثر کر سکتی ہے جس کا مطلب لاکھوں لوگوں کا بھوک اور افلاس کا شکار ہونا ہے۔ نصیر کہتے ہیں کہ پانی زراعت اور پھلوں کے باغات کی لائف لائن ہے۔اگر دریاؤں کا بہاؤ کم ہو گیا تو صوابی، سوات، مردان اور چارسدہ میں اسٹرابیری جیسی فصلیں تیزی سے ختم ہو جائیں گی ۔جغرافیائی سیاسی تناؤ اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے بغیر بھی اسٹرابیری کے کاشتکار خیبر پختونخوا میں موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

چارسدہ میں منعمر خان جیسے کسان جو ایک دہائی سے اسٹرابیری کاشت کر رہے ہیں، کہتے ہیں کہ بارشوں کی بے قاعدگی نے اس سیزن میں ان کے آٹھ کنال کے باغ میں پیداوار کو پہلے ہی متاثر کر دیا ہے۔ وہ غریب کسانوں کےلیے بلا سود قرضوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں بارش کی کمی نے چارسدہ میں پیداوار اور ہماری روزانہ کی آمدنی کو کم کر دیا ہے۔ شدید موسمی حالات اور پانی کی قلت نے چارسدہ میں اسٹرابیری کے ساتھ ساتھ خربوزے کی فصل کو بھی متاثر کیا ہے۔ 2022 میں دریائے کابل اور سوات میں آنے والے سیلاب نے خیبر پختونخوا کے مختلف حصوں میں پھلوں کی فصلوں کو نقصان پہنچایا۔ زراعت اور ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دریاؤں کے بہاؤ میں خلل پاکستان کی زرعی معیشت اور خطے کے لاکھوں لوگوں کے ذریعہ معاش کے لیے سنگین نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ ماحولیات کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد کہتے ہیں کہ بارشوں کے بدلتے ہوئے انداز اور شمالی پاکستان میں گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا، جو کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے منسلک ہے، صوبے بھر میں فصلوں اور پھلوں کی پیداوار کو پہلے ہی متاثر کر رہا ہے۔

وہ کہتےہیں کہ اگر بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ میں پھلوں کے باغات، گندم اور چاول کی پیداوار کو شدید اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور لاکھوں افراد فاقہ کشی کا شکار ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں خطے میں انسانی بحران پیدا کر سکتی ہیں، پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا برصغیر کے امن کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی 80 فیصد سے زیادہ زراعت کےلیے انڈس بیسن اریگیشن سسٹم پر انحصار کرتا ہے جس کی وجہ سے پانی کا مسلسل بہاؤ قومی غذائی تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔ ماہرِ معاشیات سابق چیئرمین شعبہ معاشیات پشاور یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد زلاکت ملک کہتے ہیں کہ بھارت کی جانب سے خاص طور پر دریائے چناب جیسے دریاؤں میں پانی کے اخراج میں اتار چڑھاؤ پاکستان میں آبپاشی کی منصوبہ بندی میں خلل ڈال سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ جب پیشگی اطلاع کے بغیر اچانک پانی چھوڑا جاتا ہے تو پاکستان کے نہری آپریشنز اور ریزروائر مینجمنٹ براہ راست متاثر ہوتے ہیں اور آخر کار وہ کسان ہی ہے جو منفی نتائج بھگتتا ہے۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان جو دریاؤں پر ڈیموں کی تعمیر کےلیے کافی مقامات سے مالا مال ہے، اسے پانی کی کمی کو ختم کرنے کے لیے ہائیڈرو پاور منصوبوں کو تیز کرنا چاہیے۔ ان اہم منصوبوں میں دیامر بھاشا ڈیم جس سے 4,500 میگاواٹ بجلی پیدا ہونے کی توقع ہے اور مہمند ڈیم جس کی گنجائش 800 میگاواٹ ہے، کی جلد تکمیل کی ضرورت ہے جبکہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے تناظر میں سندھ، سوات، کابل اور کرم دریاؤں کے ساتھ ساتھ کئی دیگر مجوزہ مقامات پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ماہرین نے کہا کہ جہاں چھوٹے ڈیم دو سے تین سالوں میں مکمل کیے جا سکتے ہیں، وہیں بڑے آبی ذخائر کی تعمیر میں 10 سے 15 سال لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی زرعی اور گھریلو طلب کو پورا کرنے کے لیے 2050 تک پاکستان کو مزید 76 ملین ایکڑ فٹ پانی کی ضرورت ہوگی۔

 

مزید خبریں