پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس، سی ڈی اے کی آڈٹ رپورٹ 24-2023 کا جائزہ لیا گیا

ارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس بدھ کو کمیٹی کی رکن شاہدہ اختر علی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان سمیت متعلقہ سرکاری اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) کی آڈٹ رپورٹ 24-2023 کا جائزہ لیا گیا۔

اسلام آباد۔11مارچ (اے پی پی):پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس بدھ کو کمیٹی کی رکن شاہدہ اختر علی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان سمیت متعلقہ سرکاری اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) کی آڈٹ رپورٹ 24-2023 کا جائزہ لیا گیا۔ایف آئی اے کو بھجوائے گئے سی ڈی اے کے زیر التواء آڈٹ پیراز پر بھی غور کیا گیا۔ ڈی جی ایف آئی اے عثمان انور کمیٹی کے طلب کرنے پر پیش ہوئے۔ اسلام آباد میں 43 پلاٹوں کی مشکوک الاٹمنٹ کے معاملہ پر ڈی جی ایف آئی اے نے پی اے سی کو بتایا کہ 43 پلاٹوں کی الاٹمنٹ سے 1 ارب روپے کا نقصان ہوا۔اس کیس میں 57 سی ڈی اے افسران، ملازمین اور نجی افراد کے خلاف ایف آئی آرز درج کی گئی،اب تک 37 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

لینڈ مینجمنٹ ادائیگیوں میں 85 کروڑ روپے سے زائد بے ضابطگیوں کے معاملہ پر ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ اس کیس میں 19 ایف آئی آرز درج کی گئیں اور اس میں 1.2 ارب روپے کی خورد برد کی گئی۔ملوث افراد کے بینک اکائونٹس کو اٹیچ کر دیا گیا ہے۔ وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ متاثرین کو ادائیگیوں کا مسئلہ بہت گھمبیر ہے۔ چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ جیسے ہی ایف آئی اے کارروائی مکمل کرے گا اصل متاثرین کو ادائیگی کر دیں گے۔متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی میں کرپشن کا معاملہ پر کمیٹی کی صدر نشین شاہدہ اختر تلی نے کہا کہ سی ڈی اے میں حالات بہت خراب ہیں۔ پی اے سی رکن ندیم عباس نے کہا کہ سی ڈی اے میں کرپشن کے حالات دیکھ کر لگتا ہے کہ ادارے میں کوئی سسٹم نہیں۔

شازیہ مری نے کہا کہ سی ڈی اے کے متاثرین بہت پریشان ہیں،حالات اس نہج پر نہیں جانے چاہئیں کہ لوگوں کو اپنے حق کیلئے احتجاج کرنا پڑے۔ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ سی ڈی اے متاثرین کو آج 2008ء کے ریٹ کے مطابق 8 لاکھ روپے فی کنال معاوضہ دے رہا ہے،آج وہاں ایک کروڑ روپے فی کنال میں بھی زمین دستیاب نہیں ہے۔ڈی جی آیف آئی اے نے کہا کہ اس کیس میں یتیم اور معذور افراد سے بھی دھوکہ کیا گیا۔