اکستان کے ادیبوں، دانشوروں اور فنکاروں نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تہذیبی یکجائی، تعاون اور ثقافتی ڈپلومیسی کے فروغ کے لئے ” دوست” کے نام سے ایک ادارے کے قیام کا اعلان کیا ہے جو زندگی کے تمام شعبوں میں دونوں برادر ملکوں کے عوامی رابطوں کو مضبوط بنائے گا۔
پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تہذیبی یکجائی، تعاون اور ثقافتی ڈپلومیسی کے فروغ کے لئے ” دوست” کے نام سے ادارے کے قیام کا اعلان
اسلام آباد۔12مارچ (اے پی پی):پاکستان کے ادیبوں، دانشوروں اور فنکاروں نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تہذیبی یکجائی، تعاون اور ثقافتی ڈپلومیسی کے فروغ کے لئے ” دوست” کے نام سے ایک ادارے کے قیام کا اعلان کیا ہے جو زندگی کے تمام شعبوں میں دونوں برادر ملکوں کے عوامی رابطوں کو مضبوط بنائے گا۔ "دوست” کے قیام کا اعلان ترک مرکز ثقافت یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ اور ” دوست ” کے زیراہتمام ایک افطار پارٹی میں کیا گیا۔ وزیر مملکت و معاون خصوصی وزیر اعظم حذیفہ رحمان نے ” دوست” کے قیام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان سرکاری شعبے میں گرمجوش تعاون موجود ہے جسے منظم طریقے سے عوام میں لے جانے کی ضرورت تھی، مجھے خوشی ہے کہ پاکستانی عوام، دانشوروں اور فنکاروں کا یہ ادارہ عوامی سطح پر یہ ضروت بطریق احسن پوری کرے گا، اس ضمن میں حکومت پاکستان "دوست” سے بھرپور تعاون کرے گی۔
وزیر مملکت حذیفہ رحمان نے کہا کہ تہذیبی اور ثقافتی سطح پر عوامی رابطے پاکستان اور ترکیہ جیسی برادر قوموں کے درمیان تعلق کو مزید معنی خیز بنائیں گے جو دونوں برادر ملکوں کی ترقی سمیت امن عالم کے لئے بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ جمہوریہ ترکیہ کے سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو نے کہا کہ ثقافتی رابطوں کے لئے غیر سرکاری تنظیمیں ہی بنیادی کر ادا کرتی ہیں۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ اس سلسلےمیں ” دوست” قائدانہ کردار ادا کرے گا۔ اس موقع کے ” دوست” کے صدر نے حذیفہ رحمان اور مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ دونوں برادر قوموں کی پرجوش دوستی کو سیاسی اور ٹیکنالوجی کے اعتبار سے بدلی ہوئی دنیا میں اگلی نسلوں تک منتقل کرنے کے لئے عوامی سطح پر کام کرنے کی ضرورت تھی، ” دوست” کے قیام کا مقصد یہی ہے۔
یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ پاکستان چیپٹر کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر خلیل طوقار نے اس موقع پر انسٹی ٹیوٹ کی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان رابطوں کے فروغ کے لئے ” دوست” جیسے ادارے کی ضرورت مدتوں سے محسوس کی جا رہی تھی ،ہم توقع رکھتے ہیں کہ ہماری کوشش مؤثر ثابت ہو گی۔ "
دوست” کے سیکرٹری جنرل پروفیسر ڈاکٹر زاہد مجید نے اس موقع پر تنظیم اور اس کی فاؤڈنگ باڈی کے ناموں کا اعلان کیا جن میں خورشید احمد ندیم، شاہ عبد اللطیف بھٹائی یونیورسٹی اور سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کے وائس چانسلرز ڈاکٹر یوسف خشک اور ڈاکٹر مجیب میمن، جامعہ پنجاب کے ڈاکٹر محمد کامران، ممتاز ادیبہ نعیم فاطمہ علوی، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی برائے خواتین کی پروفیسر ڈاکٹر صدف نقوی، کراچی میں ترکیہ کے سابق قونصل جنرل ڈاکٹر جمال سانگو، ترکیہ میں مقیم ممتاز پاکستانی تاجر احمد خان، ڈاکٹر خلیل طوقار، ڈاکٹر زاہد مجید اور ڈاکٹر فاروق عادل شامل ہیں۔ تقریب سے ڈاکٹر محی الدین ہاشمی اور ڈاکٹر نجیبہ عارف نے بھی خطاب کیا۔
اس موقع پر ترک فن کاروں نے ترک صوفی شاعر یونس ایمرے اور دیگر صوفی شعرا کا عارفانہ ” الٰہی” کے نام سے معروف دف پر روایتی انداز میں پیش کیا جسے بہت پسند کیا گیا۔









