چیئرمین بین الصوبائی بورڈ کمیٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام علی ملاح نے کہا ہے کہ پاکستان میں غیر ملکی امتحانی بورڈز کی رجسٹریشن اور نگرانی کیلئے تعلیمی نظام میں اہم اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں۔جمعہ کو ’’اے پی پی ‘‘کو اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ آئی بی سی سی ایکٹ کے تحت پاکستان میں کام کرنے والے تمام غیر ملکی امتحانی بورڈز کو آئی …
غیر ملکی امتحانی بورڈز کی رجسٹریشن کیلئے بڑی تعلیمی اصلاحات جاری ہیں، ڈاکٹر غلام علی ملاح کا ’’اے پی پی‘‘ کو خصوصی انٹرویو
اسلام آباد۔13مارچ (اے پی پی):چیئرمین بین الصوبائی بورڈ کمیٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام علی ملاح نے کہا ہے کہ پاکستان میں غیر ملکی امتحانی بورڈز کی رجسٹریشن اور نگرانی کیلئے تعلیمی نظام میں اہم اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں۔جمعہ کو ’’اے پی پی ‘‘کو اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ آئی بی سی سی ایکٹ کے تحت پاکستان میں کام کرنے والے تمام غیر ملکی امتحانی بورڈز کو آئی بی سی سی کے ضابطہ کار کے تحت لانا ضروری ہے۔ اس مقصد کیلئے ایک جامع ریگولیٹری فریم ورک تیار کیا گیا ہے جس کے تحت گورننگ بورڈ نے 15 معیارات کی منظوری دی ہے جبکہ متعدد بین الاقوامی امتحانی بورڈز کی رجسٹریشن بھی عمل میں آ چکی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اب تک چھ غیر ملکی امتحانی بورڈز کو ریگولیٹ کیا جا چکا ہے جو پاکستان میں اے لیول کے مساوی اسناد اور آئی جی سی ایس ای کے مساوی میٹرک کی تعلیم فراہم کریں گے۔ دیگر منظور شدہ اداروں میں پیئرسن ایڈ ایکسل، انٹرنیشنل بیکالوریٹ اور لرننگ ریسورس نیٹ ورک شامل ہیں جبکہ معروف ادارہ کیمبرج اسیسمنٹ انٹرنیشنل ایجوکیشن کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔
ڈاکٹر غلام علی ملاح نے کہا کہ کورونا وبا ءکے دوران بعض مسائل سامنے آنے کے بعد غیر ملکی امتحانی اداروں کی باقاعدہ نگرانی کی ضرورت محسوس ہوئی تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ ان کے امتحانات کس طریقہ کار کے تحت ہوتے ہیں اور ان کی نگرانی کون کرتا ہے۔ آئی بی سی سی کی نگرانی سے نصاب، فیس کے ڈھانچے اور پاکستان کی ثقافتی و مذہبی اقدار کے مطابق امور کی نگرانی ممکن ہو سکے گی۔انہوں نے بتایا کہ حکومت کے ڈیجیٹل پاکستان وژن کے تحت آئی بی سی سی میں ڈیجیٹل اصلاحات بھی جاری ہیں۔ ادارے کے اندر اکاؤنٹس، ہیومن ریسورس اور دفتری امور کو خودکار نظام کے تحت لایا جا رہا ہے جبکہ طلبہ کیلئے اسناد کی تصدیق کے عمل کو آسان بنانے کیلئے نیا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ فیڈرل بورڈ کے ساتھ ایک پائلٹ منصوبے کے تحت طلبہ کو اسناد کی تصدیق کیلئے الگ الگ بورڈ اور آئی بی سی سی کے دفاتر کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔
بورڈ کے ڈیٹا بیس کو براہ راست آئی بی سی سی کے آن لائن پورٹل سے منسلک کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے طلبہ آئی بی سی سی میں درخواست جمع کرائیں گے اور ریکارڈ کی ڈیجیٹل تصدیق کے بعد اسی مقام پر اسناد کی توثیق مکمل ہو جائے گی۔ یہ نظام عید سے قبل متعارف کرائے جانے کی توقع ہے۔ڈاکٹر غلام علی ملاح جو پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بھی ہیں، نے بتایا کہ اسلام آباد میں اس وقت پندرہ سو سے زائد نجی تعلیمی ادارے کام کر رہے ہیں جن میں اکثریت کم فیس لینے والے سکولوں کی ہے، صرف تقریباً پانچ فیصد ادارے ایسے ہیں جو زیادہ فیس وصول کرتے ہیں جبکہ 75فیصد سے زائد سکول ماہانہ پانچ ہزار روپے سے کم فیس لیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نجی سکولوں کیلئے رجسٹریشن کا دورانیہ ایک سال سے بڑھا کر تین سال کر دیا گیا ہے جبکہ رجسٹریشن اور تجدید کا پورا عمل پیرا پورٹل کے ذریعے ڈیجیٹل بنا دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہر سال مارچ اور اپریل کے مہینوں کو سکولوں کی رجسٹریشن اور تجدید کیلئے مقرر کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کے مطابق نجی سکول سالانہ پانچ سے آٹھ فیصد تک فیس میں اضافہ کر سکتے ہیں جبکہ آٹھ فیصد سے زیادہ اضافے کیلئے بنیادی سہولیات یا اضافی خدمات کی واضح وجوہات فراہم کرنا ضروری ہوں گی۔ ہر سکول کی منظور شدہ فیس کا ڈھانچہ پیرا پورٹل پر دستیاب ہوگا تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور والدین کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں شکایت درج کرا سکیں۔ہاکی کی بحالی کیلئے قائم ایڈہاک کمیٹی میں اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر غلام علی ملاح نے کہا کہ کھیل کو نچلی سطح سے فروغ دینا ضروری ہے، اس مقصد کیلئے ملک بھر کے سکولوں اور کالجوں میں انڈر 15 اور انڈر 17 ٹیمیں قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس کیلئے تعلیمی بورڈز کے ساتھ رابطہ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئی بی سی سی پہلے ہی سکول اور کالج کی سطح پر 30 سے زائد کھیلوں کے مقابلے منعقد کراتا ہے جو انٹر کالج، انٹر بورڈ، صوبائی اور قومی سطح تک پہنچتے ہیں تاہم طلبہ کی ہمہ جہتی ترقی کیلئے کھیلوں اور ہم نصابی سرگرمیوں کو مزید ترجیح دینا ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی بچے کی حقیقی نشوونما صرف نصابی کتب کے ذریعے ممکن نہیں بلکہ کھیل اور ہم نصابی سرگرمیاں کردار سازی، نظم و ضبط اور جسمانی صحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ڈاکٹر علی ملاح نے امید ظاہر کی کہ مناسب تربیت، بہتر سہولیات اور سکولوں کی سطح پر مقابلوں کے فروغ سے پاکستان میں ہاکی کا سنہری دور دوبارہ لوٹ سکتا ہے اور ملک ایک بار پھر عالمی معیار کے کھلاڑی پیدا کرنے کے قابل ہو جائے گا۔









