اکستان سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے ) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا 33واں اجلاس یہاں منعقد ہوا جس کی صدارت وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی نے کی۔
پی ایس کیو سی اے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا 33واں اجلاس ،متعدد اہم اصلاحات کی منظوری

مزید خبریں
اسلام آباد۔13مارچ (اے پی پی):پاکستان سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے ) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا 33واں اجلاس یہاں منعقد ہوا جس کی صدارت وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی نے کی۔ اجلاس میں وفاقی سیکرٹری وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی شاہد اقبال بلوچ، ڈائریکٹر جنرل پی ایس کیو سی اے ڈاکٹر سیدہ ضیاء بتول، ڈائریکٹر ٹریڈ پالیسی عطا اللہ خان سمیت اتھارٹی کے دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ادارے کی استعداد کار کو مضبوط بنانے اور ملازمین کی فلاح و بہبود کو بہتر بنانے کے لئے متعدد اہم اصلاحات کی منظوری دی گئی۔ اہم فیصلوں میں پی ایس کیو سی اے کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو جدید بنانے کے اقدامات کی منظوری شامل ہے جس کا مقصد ادارے کو بین الاقوامی بہترین طریقہ کار کے مطابق ہم آہنگ کرنا اور قومی ’’ڈیجیٹل پاکستان‘‘ وژن کی حمایت کرنا ہے۔
فورم نے پی ایس کیو سی اے کے تمام ملازمین کے لئے صحت کی انشورنس اور فلاحی سہولیات میں توسیع کی بھی منظوری دی، جو ادارے کی جانب سے عملے کی فلاح اور سماجی تحفظ کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منظور شدہ تمام اقدامات کو تیزی، شفافیت اور مؤثر انداز میں نافذ کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اصلاحات وزیر اعظم محمد شہباز شریف کے وژن سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں جس کا مقصد حکمرانی کو مضبوط بنانا، قومی معیار کو بہتر کرنا، ریگولیٹری اداروں میں شفافیت کو فروغ دینا اور ایک جدید اور مسابقتی معاشی ماحول کو فروغ دینا ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت قومی کوالٹی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے، ریگولیٹری نگرانی کو بہتر بنانے اور مقامی صنعت کے لئے کاروبار میں آسانی پیدا کرنے کے لئے پرعزم ہے جبکہ صارفین کی حفاظت اور تحفظ کو یقینی بنانا بھی ترجیحات میں شامل ہے۔پی ایس کیو سی اے کے بورڈ کا 33واں اجلاس ایک سٹریٹجک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے جس کے تحت اتھارٹی کو زیادہ مؤثر، ملازم دوست اور ٹیکنالوجی کے اعتبار سے جدید ادارہ بنانے کی جانب پیشرفت کی جا رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں ادارہ معیاری سازی، کوالٹی اشورنس اور صارفین کے تحفظ سے متعلق اپنے مینڈیٹ کو بہتر انداز میں پورا کرنے کے قابل ہوگا جبکہ پاکستان کے وسیع تر اصلاحات اور ترقیاتی ایجنڈے میں بھی مؤثر کردار ادا کرے گا۔








