اسلام آباد۔15مارچ (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اسلامو فوبیا کے تدارک کے عالمی دن کے موقع پر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کے مطابق ہم دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت، امتیاز اور عدم برداشت کے خلاف متحد کھڑے ہیں۔ صدر مملکت نے اسلامو فوبیا کے تدارک کے عالمی دن (15 مارچ 2026) کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ …
دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت، امتیاز اور عدم برداشت کے خلاف متحد کھڑے ہیں، صدر مملکت آصف علی زرداری کا اسلامو فوبیا کے تدارک کے عالمی دن کے موقع پر پیغام

مزید خبریں
اسلام آباد۔15مارچ (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اسلامو فوبیا کے تدارک کے عالمی دن کے موقع پر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کے مطابق ہم دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت، امتیاز اور عدم برداشت کے خلاف متحد کھڑے ہیں۔ صدر مملکت نے اسلامو فوبیا کے تدارک کے عالمی دن (15 مارچ 2026) کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ یہ دن مسلم کمیونٹیز کو درپیش تعصب اور تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کی جانب توجہ مبذول کراتا ہے اور مذہبی تنوع کے احترام اور رواداری کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن کرائسٹ چرچ کے اس المناک واقعے کی بھی یاد دلاتا ہے جس نے انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ صدر مملکت نے کہا کہ اسلامو فوبیا کی کئی صورتیں ہیں جن میں نفرت انگیز تقریر، امتیازی سلوک اور مذہبی علامات و عبادت گاہوں پر حملے شامل ہیں، ایسے اقدامات بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور اس بنیادی اصول کہ قانون کی نظر میں تمام انسان برابر ہیں کے بھی منافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام امن، ہمدردی اور انصاف کا درس دیتا ہے، یہ عقیدے، نسل یا پس منظر سے بالا تر ہو کر تمام انسانیت کے احترام کا داعی ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا اسلام کو انتہا پسندی یا تشدد سے جوڑنے کی کوششیں لا علمی کی عکاسی کرتی ہیں اور یہ تہذیبوں کے درمیان مکالمے اور باہمی مفاہمت کے فروغ کی کوششوں کو کمزور کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ تمام انسان حقوق کے لحاظ سے آزاد اور برابر پیدا ہوئے ہیں، اس اعلامیہ کا آرٹیکل 2 واضح کرتا ہے کہ ہر شخص کسی بھی قسم کی تفریق بشمول مذہبی کے بغیر ان تمام حقوق کا حقدار ہے، یہ اصول ایک منصفانہ عالمی نظام کےلئے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان نے انسانی حقوق کے کئی بین الاقوامی کنونشنز کی توثیق کی ہے، ہم بین الاقوامی فورمز اور کانفرنسوں میں اسلامو فوبیا کے خلاف مسلسل آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اظہارِ رائے کی آزادی ایک بنیادی حق ہے لیکن یہ ایک ذمہ داری بھی عائد کرتا ہے، اسے نفرت یا تقسیم پیدا کرنے کےلئے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ صدر مملکت نے کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ نفرت پر مبنی جرائم کے خلاف قانونی تحفظ کو مضبوط بنائے اور مذہبی رہنماو¿ں، ماہرینِ تعلیم اور ذرائع ابلاغ کے ما بین عملی تعاون کو فروغ دے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں لاکھوں پاکستانی بیرونِ ملک مقیم ہیں، وہ کاروبار چلاتے ہیں، ہسپتالوں میں خدمات انجام دیتے ہیں، یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور ان معاشروں کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ صدر نے کہا کہ جب مسلمانوں کے خلاف تعصب بڑھتا ہے تو یہ ان کے احساس تحفظ اور ذرائع روزگار اور تعلیم کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی شخص کو اس کے عقیدے کی بنیاد پر پرکھا یا رد نہیں کیا جانا چاہیے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان میں ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ غیر مسلم شہریوں کو سرکاری سہولیات، اسکولوں اور ملازمتوں تک بغیر کسی رکاوٹ کے رسائی حاصل ہو، مقامی کونسلوں اور قومی مباحثوں میں ان کی آواز سنی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے ”بین المذاہب ہم آہنگی کی پالیسی“ اور ”مذہبی رواداری کی حکمتِ عملی“ کی منظوری دی ہے،پارلیمنٹ نے نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز رائٹس ایکٹ 2025 نافذ کیا ہے جبکہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور شکایات کے ازالے کےلئے اب ایک آزاد نیشنل کمیشن برائے اقلیت قائم کیا جارہا ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ میں دنیا بھر کی حکومتوں، سول سوسائٹی، میڈیا اور مذہبی رہنماو¿ں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ تعصب کو مسترد کریں اور مکالمے اور قانونی ذرائع کے مطابق مل کر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی عقائد کا احترام اور قانون کے تحت مساوی تحفظ کوئی اختیاری اصول نہیں ہیں بلکہ یہ ذمہ داریاں ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان ان اصولوں کی حمایت میں اندرون اور بیرونِ ملک مستقل مزاجی سے اپنی آواز بلند کرتا رہے گا اور اپنا کردار ادا کرے گا۔\932








