اسلام آباد۔15مارچ (اے پی پی):چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم چوہدری احمد جواد نے کہا ہے کہ اگر بھارت پاکستان کے حصے کے پانی میں کسی قسم کی کمی کرتا ہے تو یہ جنگی اقدام کے مترادف ہوگا اور پاکستان کو اس خلاف ورزی کے جواب کا مکمل حق حاصل ہے ، بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ …
سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کی بھارتی کوشش خطے کیلئے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے،چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم چوہدری احمد جواد

مزید خبریں
اسلام آباد۔15مارچ (اے پی پی):چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم چوہدری احمد جواد نے کہا ہے کہ اگر بھارت پاکستان کے حصے کے پانی میں کسی قسم کی کمی کرتا ہے تو یہ جنگی اقدام کے مترادف ہوگا اور پاکستان کو اس خلاف ورزی کے جواب کا مکمل حق حاصل ہے ، بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ چوہدری احمد جواد نے ’’اے پی پی‘‘سے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ سندھ طاس معاہدہ میں "معطلی” یا "abeyance” کا کوئی قانونی جواز موجود ہی نہیں ہے اور بغیر باہمی رضامندی کے اس میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کا پانی روکنا ایک سنگین جرم ہے ، یہ وہ دریا ہے جو غیر قانونی بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر سمیت پاکستان کے بیشتر حصوں میں اپنی رسائی رکھتا ہے اس لیے اس پر زیادہ سے زیادہ حق پاکستان کا ہے ۔ چوہدری احمد جواد نے کہا کہ ہم سندھ طاس معاہدہ پر عمل درآمد کوہرحال میں یقینی بنا ئیں گے اور کسی کو بھی اپنے حق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔احمد جواد نے کہا کہ پاکستان کی 80 فیصد سے زیادہ زراعت کا انحصار سندھ طاس سے منسلک آبپاشی کے نظام پر ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کے حوالہ سے بلا جواز ، غیر قانونی اور ہٹ دھرمی پر مشتمل بھارتی اقدامات سے پاکستان میں زراعت سمیت موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز کا خدشہ ہے ، جس سے برف پگھلنے کی شرح میں اضافہ اور بے ترتیب مون سون کے باعث پانی کی طویل المدتی دستیابی خطرہ میں پڑ سکتی ہے۔
مزید برآں پانی کے بہائو میں کمی سے پاکستان میں زیر زمین پانی کی سطح میں کمی کے خدشات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ چوہدری احمد جواد نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی بھارتی آبی دہشتگردی سے غذائی تحفظ کے عالمی اہداف کے متاثر ہونے کے شدید خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چھ دہائیوں سے زائد عرصہ سے جاری سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا میں زرعی استحکام کا سنگ بنیاد ہے جو کروڑوں افراد کے لیے خوراک ،دیہی روزگار اور ذریعہ معاش کے حوالہ سے بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت ہمیں محبور نہ کرے کہ پاکستان اپنے پانی کے دفاع کے لئے اقدامات کا آغاز کرے اگر ایسا ہوا تو بھارت کے ڈیمز ہمارے نشانوں پر ہوں گے اور اس سے بھارت کی معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا۔چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم چوہدری احمد جواد نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ ہمارے لئے زراعت کی بقا اور غذائی سلامتی کا معاملہ ہے، بھارت اپنے غیر قانونی اقدامات سے ہمیں مجبور نہ کرے، پاکستان بھارت کی جانب سے کسی بھی قسم کی آبی جارحیت کو اعلان جنگ تصور کرتے ہوئے اس کا پوری قوت سے جواب دے گا۔








