لاہور۔15مارچ (اے پی پی):سینئر قانون دان ،سابق جج ہائیکورٹ و پاکستان بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین محمد رمضان چوہدری نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی معاہدہ ہے، جس کی خلاف ورزی، یکطرفہ معطلی یا اس سے علیحدگی کے حوالے سے کوئی قانونی گنجائش موجود نہیں۔وہ قومی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی)سے خصوصی بات چیت کر رہے تھے ۔انہوں نے کہا …
سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی معاہدہ ،خلاف ورزی کی کوئی قانونی گنجائش نہیں ، سینئر قانون دان محمد رمضان چوہدری کی ’’اے پی پی‘‘سے خصوصی بات چیت

مزید خبریں
لاہور۔15مارچ (اے پی پی):سینئر قانون دان ،سابق جج ہائیکورٹ و پاکستان بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین محمد رمضان چوہدری نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی معاہدہ ہے، جس کی خلاف ورزی، یکطرفہ معطلی یا اس سے علیحدگی کے حوالے سے کوئی قانونی گنجائش موجود نہیں۔وہ قومی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی)سے خصوصی بات چیت کر رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی معاہدے ویانا کنونشن اصولوں کے تحت پابند ہوتے ہیں اور جب کسی معاہدے کی نگرانی کوئی تیسرا فریق کرتا ہے تو اس پر لازم ہوتا ہے کہ وہ اس پر عملدرآمد یقینی بنائے۔سینئر قانون دان نے کہا کہ اس معاہدے میں عالمی بینک نے سہولت کار کا کردار ادا کیا اور یہی وجہ ہے کہ یہ ایک مضبوط اور قابلِ نفاذ معاہدہ ہے جسے کسی ایک فریق کی مرضی سے معطل نہیں کیا جا سکتا۔
ایک سوال پر محمد رمضان چوہدری نے کہا کہ اگر پاکستان کو ملنے والے پانی کے بہائو میں رکاوٹ ڈالی جاتی ہے یا پانی کو غلط وقت پر چھوڑا جاتا ہے تو اس کے پاکستان کی زراعت اور معیشت پر شدید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پانی کے بہائو میں غیر فطری تبدیلیاں سیلابی صورتحال کو جنم دے سکتی ہیں جو ایک خطرناک حکمتِ عملی ہو سکتی ہے۔محمد رمضان چوہدری نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی قانونی اور سفارتی راستہ اختیار کیے ہوئے ہے جس کے تین اہم پہلو ہیں،پہلا بین الاقوامی ثالثی عدالت کے قیام کا مطالبہ جو عمل میں آ چکا ہے،دوسرا متنازع منصوبوں کے معائنوں کا مطالبہ جن کی اجازت نہیں دی جا رہی اور تیسرا مطالبہ ضرورت پڑنے پر معاملے کو بین الاقوامی پابندیوں تک لے جانے کا اختیار ہے۔
سابق وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل نے کہا کہ پانی روکنا یا اس کا رخ موڑنا کسی ملک کے عوام کے بنیادی حقِ زندگی پر حملہ اورپانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔محمد رمضان چوہدری ایڈووکیٹ نے تجویز دی کہ پاکستان کو کیشکیڈنگ ڈیمز یعنی درجہ وار آبی ذخائر تعمیر کرنے چاہئیں تاکہ آنے والے پانی کو موثر طور پر استعمال کیا جا سکے۔انہوں نے واضح کیا کہ جب کوئی ملک اپنے حصے کے پانی کو موثر استعمال میں لاتا ہے تو اس کا قانونی حق مزید مضبوط ہو جاتا اور اس پانی میں کمی، کٹوتی یا رخ موڑنے کا جواز باقی نہیں رہتا۔ انہوں نے کہا کہ قومی مفاد کے اس اہم معاملے پر مزید تیزی، مہارت اور مربوط حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اس مسئلے کو عالمی سطح پر موثر انداز میں اٹھاتے ہوئے اپنے آبی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے گا۔








