عید کی مناسبت سے ’’کشمیری چوڑیاں‘‘ ایک لازمی روایت بن چکی ہیں،رپورٹ

اسلام آباد۔15مارچ (اے پی پی):عید الفطر کے قریب آتے ہی ملک بھر کے چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں کے بازار وں میں خریداروں کا جوش و خروش عروج پر ہے،عید کے موقع پر ہر سال خواتین کیلئے چوڑیاں خریدنا ایک لازمی روایت ہوتی ہے لیکن رواں سال اپنے خوبصورت ڈیزائن اور دلکش رنگوں کے ساتھ کشمیری چوڑیاں خواتین کی خصوصی توجہ کا مرکز ہیں، جن کی قیمت ایک ہزار روپے …

اسلام آباد۔15مارچ (اے پی پی):عید الفطر کے قریب آتے ہی ملک بھر کے چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں کے بازار وں میں خریداروں کا جوش و خروش عروج پر ہے،عید کے موقع پر ہر سال خواتین کیلئے چوڑیاں خریدنا ایک لازمی روایت ہوتی ہے لیکن رواں سال اپنے خوبصورت ڈیزائن اور دلکش رنگوں کے ساتھ کشمیری چوڑیاں خواتین کی خصوصی توجہ کا مرکز ہیں، جن کی قیمت ایک ہزار روپے سے 1500 تک ہے جو نوجوان لڑکیوں سے لے کر ہر عمر کی خواتین کو اپنی طرف متوجہ کر رہی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کشمیری چوڑیاں جو اصل میں حیدرآباد میں تیار کی جاتی ہیں، اس عید کے سیزن میں حیدرآباد سے اسلام آباد کے بازاروں میں بھی پہنچی ہیں جو اپنی منفرد کاریگری،جاذب نظر رنگوں اور دلکش و روایتی ڈیزائنوں سے خریداروں کو اپنی طرف متوجہ کر رہی ہیں۔

دکانداروں کا کہنا ہے کہ نوجوان لڑکیوں کے ساتھ ساتھ بڑی عمر کی خواتین میں بھی کشمیری چوڑیوں کی بہت زیادہ مانگ ہے۔ اس حوالہ سے بہت سی خواتین نے اپنے جوش و خروش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں پیچیدہ ڈیزائن اور چمکدار رنگ پسند ہیں جو عید کو بہت خاص بناتے ہیں۔ ایک اور خاتون نے تبصرہ کیا کہ یہ چوڑیاں مجھے ان چوڑیوں کی یاد دلاتی ہیں جو میری والدہ پہنتی تھیں۔ اسی طرح ایک اور خاتون خریدار نے کہا کہ میں نے رواں سال چوڑیاں خود بنائی ہیں کیونکہ بازار کی قیمتیں بہت زیادہ تھیں لیکن میں پھر بھی روایت سے لطف اندوز ہونا چاہتی ہوں۔

دکانداروں کا کہنا ہے کہ بازاروں میں آنے والی ہر خاتون خریدار ان چوڑیوں کی مانگ کر رہی ہے جو انہیں اس عید پر سب سے زیادہ پسند کی جانے والی اشیاء میں شامل کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صبح سے شام تک خواتین کا ہجوم صرف رنگین کشمیری تخلیقات کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے دکانوں پر جمع رہتا ہے۔ جبکہ سڑک کنارے دکانداروں نے بھی مانگ انتہائی زیادہ ہونے کا دعویٰ کیا اور اعتراف کیا کہ اس سیزن میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس حوالہ سے بچی نے کہا کہ میں کشمیری چوڑیوں کے بغیر عید نہیں مناؤں گی کیونکہ رواں سال ان کا ٹرینڈ ہے۔ انہوں نے کہا کہ چوڑیاں ملک بھر میں عید کی تقریبات کی روح اور علامت بن چکی ہیں۔

مزید خبریں