اسلام آباد۔15مارچ (اے پی پی):اسلام آباد ٹریفک پولیس (آئی ٹی پی) نے گاڑیوں کے رنگین شیشوں کے حوالے سے حکومت کی پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلی کھڑکیوں پر 40 سے 50 فیصد ٹنٹ کی اجازت ہے جب کہ سیکورٹی اور شناخت کے مقاصد کے لیے سامنے والے شیشے کو صاف رکھنا ضروری ہے۔اسلام آباد پولیس حکام نے اے پی پی کو بتایا کہ یہ وضاحت شہریوں …
گاڑی کے پچھلے شیشے 50 فیصد کالے رکھنے کی اجازت ہے، فرنٹ شیشے بالکل صاف ہونے چاہئیں، اسلام آباد ٹریفک پولیس

مزید خبریں
اسلام آباد۔15مارچ (اے پی پی):اسلام آباد ٹریفک پولیس (آئی ٹی پی) نے گاڑیوں کے رنگین شیشوں کے حوالے سے حکومت کی پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلی کھڑکیوں پر 40 سے 50 فیصد ٹنٹ کی اجازت ہے جب کہ سیکورٹی اور شناخت کے مقاصد کے لیے سامنے والے شیشے کو صاف رکھنا ضروری ہے۔اسلام آباد پولیس حکام نے اے پی پی کو بتایا کہ یہ وضاحت شہریوں کی آگاہی میں مدد کے لیے جاری کی گئی ہے کہ کس قسم کے شیشوں کی قانونی طور پر اجازت ہے اور کون سے شیشے سکیورٹی حوالہ سے ممنوع ہیں۔ چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) اسلام آبادکیپٹن (ر) حمزہ ہمایوں کے مطابق پچھلی کھڑکیوں پر 40 سے 50 فیصد تک ٹِنٹنگ کی اجازت ہے جب کہ فرنٹ سائیڈ کی کھڑکیوں پر ٹِنٹنگ کی اجازت نہیں ہے کیونکہ سیکورٹی چیکنگ کے دوران ڈرائیور واضح طور پر نظر آنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ڈرائیور کی واضح طور پر شناخت کرنے کی صلاحیت ٹریفک کے انتظام اور حفاظتی مقاصد دونوں کے لیے اہم ہے، یہی وجہ ہے کہ سامنے کی کھڑکیوں پر رنگین شیشوں کو قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔انہوں نے مزید وضاحت کی کہ زیادہ تر گاڑیوں کی پچھلے شیشوں پر پہلے سے ہی لائٹ فیکٹری فٹ ٹِنٹنگ ہوتی ہے اور گاڑیوں کے مینوفیکچررز کی طرف سے عموماً گہرے رنگ کے شیشے نہیں فراہم کئے جاتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی گاڑی میں فیکٹری سے لگے ٹنٹڈ شیشے ہوں تو مالک کے پاس وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کردہ دستاویزات کا ہونا ضروری ہے جو معمول کی جانچ پڑتال کے دوران طلب کی جا سکتی ہے۔سی ٹی او حمزہ ہمایوں نے کہا کہ ٹریفک پولیس صرف حکومتی قوانین پر عمل درآمد کرتی ہے، پولیس گاڑیوں شیشے نہیں توڑتی اور نہ ہی ہٹاتی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ سامنے کی کھڑکیوں پر ٹنٹڈشیٹ یا کاغذ لگانا قانون کے تحت جائز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے ضابطے شہریوں کی رازداری، عوامی تحفظ اور سلامتی کی ضروریات میں توازن برقرار رکھنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔انہوں نے ڈرائیوروں کو مشورہ دیا کہ جرمانے سے بچنے اور ٹریفک قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے ہدایات پر عمل کریں۔








