کپڑے کے فضلے کی ری سائیکلنگ کے ذریعےپانی کی بڑی مقدار کی بچت ممکن ہے ، میاں کاشف

لاہور۔22مارچ (اے پی پی):پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں کاشف اشفاق نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس پائیدار سماجی و معاشی ترقی حاصل کرنے کی نمایاں صلاحیت موجود ہے، خصوصا ٹیکسٹائل ویسٹ یا کپڑے کے فضلے کی ری سائیکلنگ کے ذریعے ایسا کیا جا سکتا اور اس سے پانی کی بڑی مقدار کی بچت ممکن ہے۔ وہ اتوار کو یہاں احمد نثار گجر کی قیادت میں برآمد …

لاہور۔22مارچ (اے پی پی):پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں کاشف اشفاق نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس پائیدار سماجی و معاشی ترقی حاصل کرنے کی نمایاں صلاحیت موجود ہے، خصوصا ٹیکسٹائل ویسٹ یا کپڑے کے فضلے کی ری سائیکلنگ کے ذریعے ایسا کیا جا سکتا اور اس سے پانی کی بڑی مقدار کی بچت ممکن ہے۔ وہ اتوار کو یہاں احمد نثار گجر کی قیادت میں برآمد کنندگان کے ایک وفد سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان کے سامنے موجود چیلنجز نہایت پیچیدہ ہیں، جن میں موسمیاتی تبدیلی، تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، وسائل کی کمی، روزگار کے ناکافی مواقع اور بڑھتی ہوئی غربت جیسے باہم جڑے مسائل شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ ایک دہائی کے اندر پاکستان ان پانچ بڑے ممالک میں شامل ہو سکتا ہے جو ری سائیکل شدہ ٹیکسٹائل ویسٹ سے تیار کردہ پائیدار اور سرکلر ٹیکسٹائل مصنوعات برآمد کریں گے۔ یہ پیش رفت نہ صرف غربت کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوگی بلکہ ٹیکسٹائل کے فضلے میں کمی اور ملک کے زمین، پانی اور بجلی جیسے قیمتی وسائل کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکسٹائل ویسٹ کو مکمل طور پر ختم کرنے اور اسے تخلیقی و کارآمد مصنوعات میں تبدیل کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یورپی یونین نے 2021 میں تقریبا 1 لاکھ استعمال شدہ جینز (پینٹس) پاکستان برآمد کیں، جن کی مالیت 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تھی، ان جینز کو کراچی میں ری سائیکل کیا اور بعد ازاں دوبارہ برآمد کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سالانہ تقریبا 2 لاکھ 70 ہزار 125.34 میٹرک ٹن ٹیکسٹائل ویسٹ پیدا ہوتا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر ملک میں ٹیکسٹائل ویسٹ کو بے دریغ پھینکنے اور اس کی ڈمپنگ پر سخت پابندی عائد کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ ٹیکسٹائل ری سائیکلنگ انڈسٹری کو مزید ترقی دے اور اس شعبے میں خواتین اور بچیوں کو روزگار فراہم کرے تاکہ وہ ضائع شدہ کپڑوں کو بامقصد اور تخلیقی مصنوعات میں تبدیل کر سکیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ معروف برانڈز کے ہینڈ بیگز بھی ضائع شدہ کپڑے اور چمڑے سے تیار کیے جا رہے ہیں، جو خواتین کو بااختیار بنانے، کاروباری مواقع پیدا کرنے اور ٹیکسٹائل ویسٹ کو کارآمد اشیاء میں بدلنے کی ایک بہترین مثال ہے۔