ریاض۔27مارچ (اے پی پی):سعودی عرب کے محکمہ ریلوے ’سار‘ نے کارگو ٹرینوں کے ذریعے بین الاقوامی لاجسٹک کوریڈور کا آغاز کیا ہے جو دمام میں کنگ عبدالعزیز پورٹ، جبیل میں کنگ فہد انڈسٹریل پورٹ اور الحدیثہ بارڈر پر جبیل کمرشل پورٹ سے جوڑتا ہے۔ایس پی اے کے مطابق یہ اقدام اردن اور سعودی عرب کے شمال میں واقع ملکوں کے ساتھ براہ راست رابطے کو مضبوط بنانے کے ساتھ ایک …
ریلوے کا کارگو ٹرینوں کے ذریعے بین الاقوامی لاجسٹک کوریڈور کا آغاز

مزید خبریں
ریاض۔27مارچ (اے پی پی):سعودی عرب کے محکمہ ریلوے ’سار‘ نے کارگو ٹرینوں کے ذریعے بین الاقوامی لاجسٹک کوریڈور کا آغاز کیا ہے جو دمام میں کنگ عبدالعزیز پورٹ، جبیل میں کنگ فہد انڈسٹریل پورٹ اور الحدیثہ بارڈر پر جبیل کمرشل پورٹ سے جوڑتا ہے۔ایس پی اے کے مطابق یہ اقدام اردن اور سعودی عرب کے شمال میں واقع ملکوں کے ساتھ براہ راست رابطے کو مضبوط بنانے کے ساتھ ایک موثر زمینی راستے کے ذریعے علاقائی تجارت کو فروغ دے گا۔سارکے مشرقی علاقے کی بندرگاہوں سے ریلوے نیٹ ورک کے ذریعے کنٹینرز کو الحدیثہ بارڈر تک پہچانے کی اس نئی سروس سے اردن اور مملکت کے شمال میں واقع ممالک تک براہ راست راستے کھلیں گے،اس سے برآمدات اور ری ایکسپورٹ کے عمل کو بھی تقویت ملے گی جبکہ ٹرانسپورٹیشن کا نظام پہلے سے زیادہ موثر اور قابل اعتماد ہو جائے گا۔سعودی محکمہ ریلوے کا کہنا ہے کہ اس لاجسٹک کوریڈور سے صنعتکاروں کو اپنی مصنوعات مشرقی ریجن کی بندرگاہ سے الحدیثہ بارڈر تک منتقل کرنے کی سہولت ہو گی جہاں سے اردن اور مملکت کے شمالی حصے تک پہنچائی جا سکیں گی۔اسی ٹریک کے ذریعے اردن و دیگر ملکوں سے سامان مملکت کی مشرقی بندرگاہ تک پہنچ سکے گا جس سے مال برداری اور سپلائی چین کی صورتحال بہتر ہو گی۔ریلوے کوریڈور کے ذریعے روایتی روڈ ٹرانسپورٹیشن کے مقابلے میں 1700 کلو میٹر کی مسافت نصف وقت میں طے کی جا سکے گی جبکہ سامان کی گنجائش بھی ایک ٹرین میں 400 کنٹینر سے تجاوز کرجائے گی۔ ریلوے کوریڈور سے لاجسٹک سروسز پر براہ راست مثبت اثرات مرتب ہوں گے، شاہراہوں پر موجود ہزاروں ٹرکس کی بھی ضرورت نہیں رہے گی جبکہ کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔یہ اقدامات سارکی جانب سے سعودی وژن 2030 اورقومی ٹرانسپورٹ و لاجسٹک حکمت عملی کے اہداف کے حصول کو آسان بنانے کے لیے کیے جارہے ہیں۔خیال رہے کہ سار کا ریلوے ٹریک 5500 کلومیٹر طویل ہے جس کے ذریعے مسافروں، کارگو اور معدنیات کی ٹرانسپوٹیشن کی جاتی ہے، 2025 میں سارنے 14 ملین سے زائد مسافروں اور 30 ملین ٹن سے زیادہ سامان اور معدنیات کی منتقلی کی ۔








