لاہور۔29مارچ (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ امریکی ٹیرف اور بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی کے باعث گزشتہ ایک سال کے دوران عالمی نظام میں ناقابل واپسی تبدیلیاں آ چکی ہیں اور پرانا عالمی نظام اب ختم ہو چکا ہے۔ اتوار کو جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ اور …
عالمی نظام تبدیل ہونے سے ڈبلیو ٹی او کی اہمیت خطرے سے دو چار ہے، افتخار علی ملک

مزید خبریں
لاہور۔29مارچ (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ امریکی ٹیرف اور بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی کے باعث گزشتہ ایک سال کے دوران عالمی نظام میں ناقابل واپسی تبدیلیاں آ چکی ہیں اور پرانا عالمی نظام اب ختم ہو چکا ہے۔ اتوار کو جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ اور کئی سالوں سے تعطل کا شکار کثیرالجہتی تجارتی معاہدوں کے تناظر میں ہمیں مستقبل کی طرف دیکھنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر متعلقہ فریقین کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے تو عالمی تجارتی تنظیم اپنی کشش اور اہمیت کھو سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اصلاحات پر اتفاق نہ ہوا تو ممالک قواعد پر مبنی عالمی تجارتی نظام کو ترک کر کے اپنی اپنی پالیسیاں بنانے لگیں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی معاشی حالات میں ڈبلیو ٹی او کے فیصلہ سازی کے مسائل حل نہ کیے گئے تو یورپی یونین، چین، برطانیہ اور دیگر شراکت داروں کے درمیان اتفاق نہ ہونے کی صورت میں نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتا ہے۔
افتخار علی ملک نے مزید کہا کہ شفافیت کے فقدان سے اعتماد کی کمی پیدا ہوتی ہے، جو غیر منصفانہ اور غیر مسابقتی رویوں کو جنم دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیمرون میں ہونے والے ڈبلیو ٹی او کے 4 روزہ اجلاس میں بھی نئے عالمی نظام کے مطابق تجارتی قواعد میں اصلاحات پر اتفاق رائے نہ ہو سکا، جبکہ تنظیم اس وقت متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔








